
بی جے پی رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس، ٹکٹ تقسیم سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیاامراوتی، 7 اگست (ہ س)۔ تیوسا اسمبلی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی راجیش وانکھیڑے نے سابق رکن پارلیمنٹ روی رانا کا نام لیے بغیر ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں اور سیاسی نوٹنکی سے باز آئیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ضلع کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ ردعمل ایک روز قبل روی رانا کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تیوسا اسمبلی حلقے کے آئندہ امیدوار کے طور پر روی راج دیشمکھ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان کا ٹکٹ کٹوایا گیا تھا۔ اس کے جواب میں بی جے پی کے ضلع دیہی صدر پرتاپ اڈسڈ، رکن اسمبلی پروین پوٹے پاٹل، رکن اسمبلی راجیش وانکھیڑے اور دیگر پارٹی عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرکے روی رانا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔راجیش وانکھیڑے نے کہا کہ بعض لوگ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلع کی سیاست ان کے اشاروں پر چلتی ہے، انہیں اس خوش فہمی سے باہر آ جانا چاہیے۔ بی جے پی کی کامیابی کا سہرا پارٹی کی قیادت، کارکنوں اور عوامی حمایت کو جاتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ دوسرے اسمبلی حلقوں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت بند کی جائے، ورنہ بڈنیرا اسمبلی حلقے کی تمام سیاسی سرگرمیوں کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے گا۔وانکھیڑے نے الزام لگایا کہ امراوتی اور دریاپور اسمبلی انتخابات میں مہایوتی اتحاد کے امیدواروں کو شکست دلانے کی کوشش کی گئی، لیکن بی جے پی کے کارکنوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو بھاری اکثریت کارکنوں کی محنت اور عوامی اعتماد کی بدولت ملی، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران بی جے پی کے ساتھ مبینہ بے وفائی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے متعلق تمام حقائق مناسب وقت پر عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیوسا اسمبلی حلقے میں امیدوار کے اعلان سے قبل یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بی جے پی کے ٹکٹ کسی فرد کے اشارے پر تقسیم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ حقیقت کے منافی ہے۔راجیش وانکھیڑے نے کہا کہ مہایوتی اتحاد کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے، پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند ہونی چاہیے اور دکھاوے کی سیاست کے ذریعے کارکنوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت خود تمام حقائق واضح کر دے گا۔اس موقع پر رکن اسمبلی پروین پوٹے پاٹل نے بھی روی رانا کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی میں امیدواروں کے انتخاب کا اختیار صرف پارلیمانی بورڈ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ بے بنیاد بات ہے، جس کا مقصد صرف کارکنوں میں الجھن پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی اپنی تنظیمی طاقت اور کارکنوں کے اعتماد پر قائم ہے۔بی جے پی کے ضلع دیہی صدر پرتاپ اڈسڈ نے بھی کہا کہ امیدواروں کے انتخاب کا اختیار صرف پارلیمانی بورڈ کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی جانب سے ٹکٹ دلوانے یا کٹوانے کا دعویٰ حقیقت سے بعید ہے۔ ان کے مطابق کارکنوں میں پائی جانے والی غلط فہمی دور کرنے اور حقائق واضح کرنے کے لیے ہی یہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے