مغربی بنگال: 11 نجی بلڈ بینکوں کے خون عطیہ کیمپوں پر پابندی، معاملہ ہائی کورٹ پہنچا
کولکاتا، 07 اگست (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے 11 نجی بلڈ بینکوں کے بیرونی رضاکارانہ خون عطیہ کیمپوں پر عائد پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ جمعہ کو معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے جانچ ک
مغربی بنگال: 11 نجی بلڈ بینکوں کے خون عطیہ کیمپوں پر پابندی، معاملہ ہائی کورٹ پہنچا


کولکاتا، 07 اگست (ہ س)۔

مغربی بنگال حکومت کی جانب سے 11 نجی بلڈ بینکوں کے بیرونی رضاکارانہ خون عطیہ کیمپوں پر عائد پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ جمعہ کو معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے جانچ کی پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

جسٹس کرشن راو¿ نے ریاستی حکومت کو 14 اگست تک جانچ کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ معاملے کی اگلی سماعت 19 اگست کو ہوگی۔

ریاستی محکمہ صحت کی اسٹیٹ بلڈ ٹرانسفیوشن کونسل نے یکم اگست سے نافذ حکم کے تحت 11 نجی بلڈ بینکوں کو بیرونی مقامات پر رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ منعقد کرنے اور وہاں سے خون جمع کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ مختلف بلڈ بینکوں کے اچانک معائنے کے دوران کئی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد تفصیلی جانچ شروع کی گئی ہے۔ جانچ مکمل ہونے تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔

محکمہ صحت کے مطابق، جانچ میں مقررہ ہدف سے زیادہ خون جمع کرنا، خون عطیہ کیمپوں میں حفاظتی معیارات پر عمل نہ کرنا، اور بغیر درست اجازت خون کے مختلف اجزا جیسے سرخ خون کے خلیات (آر بی سی) اور پلازما کو دوسری ریاستوں میں فروخت کرنے جیسے سنگین الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف بیرونی خون عطیہ کیمپوں پر نافذ ہے۔ متعلقہ نجی بلڈ بینک اپنے اسپتالوں یا اداروں کے احاطے میں مقررہ ضوابط اور تربیت یافتہ عملے کی نگرانی میں بلڈ کلیکشن کرنے کا کام جاری رکھ سکیں گے۔

جن 11 نجی بلڈ بینکوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے، وہ سونارپور، اینٹالی، جودھپور پارک، علی پور روڈ، پدم پوکور، بیلیا گھاٹا، ہاوڑہ، کرشن نگر، رائے گنج، مشرقی بردوان اور انڈال علاقوں میں واقع ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande