
کولکاتا، 4 اگست (ہ س)۔ جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے منگل کو کہا کہ بنگلہ دیش میں تمام جمہوری سیاسی جماعتوں کو سیاست میں حصہ لینے کے مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی پارٹی پر سے پابندیاں ہٹانے اور اسے سیاسی عمل میں دوبارہ شامل کرنے کی وکالت کی۔ انہوںنے مذہب پر مبنی سیاست کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یہ خواتین کے حقوق اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
تسلیمہ جو کہ شمالی 24 پرگنہ ضلع کے پانیہاٹی میں سماجی مصلح بیگم رقیہ سخاوت حسین کی قبر پر خراج عقیدت پیش کرنے آئی تھیں، نے کہا کہ بیگم رقیہ کو اپنی زندگی میں مسلم بنیاد پرستوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ خواتین کی تعلیم، حقوق نسواں اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف آواز اٹھاتی تھیں۔ تسلیمہ نے دعویٰ کیا کہ اسی مخالفت کی وجہ سے بیگم رقیہ کو رات کے اندھیرے میں پانی ہاٹی میں دفن کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں بیگم رقیہ کو خراج عقیدت پیش کرنے اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے آئی ہیں۔
بنگلہ دیش کی موجودہ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی پر پابندی لگائی جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، تنظیم شرعی قانون اور خواتین مخالف پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے جو خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوری نظام میں تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس تناظر میں، انہوں نے شیخ حسینہ کی پارٹی پر سے پابندی ہٹانے اور اسے سیاسی عمل میں بحال کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
تسلیمہ نے کہا کہ وہ بھی بنگلہ دیش واپس جانے کی خواہش مند ہیں لیکن اب تک انہیں اپنے ملک واپس جانے کی اجازت نہیں ملی۔
انہوں نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ پورے برصغیر میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ تمام مذاہب کی خواتین کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنائے گا۔ قانون کی بنیاد مذہب پر نہیں بلکہ مساوات کے اصول پر ہونی چاہیے تاکہ کوئی بھی عورت اس کے مذہب کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم نہ رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی