
نئی دہلی، 4 اگست(ہ س)۔ آل انڈیا کسان کوآرڈینیشن کمیٹی(اے آئی کے سی سی) کے ایک وفد نے منگل کو مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود شیوراج سنگھ چوہان سے ملاقات کی۔ کرشی بھون میں ہونے والی اس نشست میں مختلف ریاستوں سے آئے کسان رہنماؤں نے ایتھونول پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو کئی اہم تجاویز پیش کیں۔
وفد میں پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت مختلف ریاستوں کے کسان نمائندے شامل تھے۔ اجلاس میں ایتھنول، کسانوں کی آمدنی، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، زرعی منڈی اور قومی زرعی پالیسی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کسان رہنماؤں نے کہا کہ ایتھونول سے زرعی پیداوار کو صرف منڈی تک محدود نہیں رہنا پڑے گا بلکہ اسے ایندھن اور توانائی کی منڈی تک بھی رسائی ملے گی، جس سے کسانوں کے لیے نئی تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گنا، مکئی، چاول اور دیگر فصلوں سے ایتھنول کی تیاری سے کسانوں کو بہتر قیمت اور زیادہ خریدار مل سکیں گے۔وفد نے واضح کیا کہ وہ ایتھنول کے مخالف نہیں بلکہ اس کے حامی ہیں، تاہم ضروری ہے کہ گنا، مکئی اور دیگر فصلوں کی مناسب قیمت کسانوں کو یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر ایتھنول کے بارے میں غلط معلومات پھیلا کر عوام اور کسانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اس لیے حکومت اور کسان تنظیموں کو سائنسی حقائق کی بنیاد پر عوامی بیداری مہم چلانی چاہیے۔
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایتھنول پروگرام کا سب سے زیادہ فائدہ کسانوں کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف ملک کی توانائی کی سلامتی مضبوط ہوگی بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے یقین دلایا کہ مکئی، چاول، گنے اور دیگر فصلوں کی قیمتوں اور طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور کسانوں کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایتھنول سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سائنسی مطالعات اور تکنیکی رپورٹس کی بنیاد پر حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan