’ملاح پہلے‘ مہم کے تحت اب تک 3,972 بھارتی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ایران، آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور ملحقہ سمندری علاقوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ’ملاح پہلے‘ مہم کے تحت اب تک خلیجی خطے سے 3,972 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت وطن واپس پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ 60 تجارتی
’ملاح پہلے‘ مہم کے تحت اب تک 3,972 بھارتی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی


نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ایران، آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور ملحقہ سمندری علاقوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ’ملاح پہلے‘ مہم کے تحت اب تک خلیجی خطے سے 3,972 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت وطن واپس پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ 60 تجارتی جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے بھارت کے لیے سامان لے کر روانہ ہو چکے ہیں۔ حکومت نے جہازوں اور ملاحوں کی ریئل ٹائم ٹریکنگ اور نگرانی کا نظام بھی نافذ کر دیا ہے۔مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے منگل کو راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ بحری انتظامیہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی ایم اے) نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار ’ملاح پہلے‘ مہم نافذ کی ہے۔ اس کے تحت 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم، ڈی جی کمیونیکیشن سینٹر کے ذریعے مسلسل نگرانی، ہر 24 گھنٹے بعد صورتحال کی رپورٹ جاری کرنے اور جہازوں و بھارتی ملاحوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

سونووال نے بتایا کہ 24 گھنٹے کام کرنے والا کنٹرول روم اب تک ملاحوں، ان کے اہل خانہ اور بحری شعبے سے وابستہ دیگر افراد کی 15,771 ٹیلی فون کالز اور 36,499 ای میلز کا ازالہ کر چکا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ملاحوں کے اہل خانہ سے مسلسل رابطہ رکھا جاتا ہے اور انہیں مشاورتی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کسی ملاح کا انتقال ہو جائے تو سی فیئررز ویلفیئر فنڈ سوسائٹی کے ذریعے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا بھی انتظام موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری سے جولائی کے درمیان کئی اہم ہدایات جاری کی گئیں، جن میں بھارتی ملاحوں کو ایران بھیجنے پر پابندی، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات، جہاز اور ساحل کے درمیان سکیورٹی مشقیں، خطرات کا مسلسل جائزہ، مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے اور سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں تنازع سے متاثرہ علاقوں میں بھارتی ملاحوں کی تعیناتی سے گریز کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔سونووال نے مزید بتایا کہ یکم جولائی سے شروع کیے گئے ای-ناوک پورٹل کے ذریعے سمندری حادثات، سکیورٹی سے متعلق واقعات اور ہنگامی صورتحال کی آن لائن رپورٹنگ، شکایات کے ازالے اور بحران کے انتظام کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز، خلیج عمان، خلیج عدن اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر بھارتی بحریہ فوری امداد فراہم کر سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande