
نئی دہلی، 4 اگست(ہ س)۔ راجیہ سبھا نے منگل کو اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے درمیان پیدائش و اموات کے اندراج (ترمیمی) بل، 2026 صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔ یہ بل 31 جولائی کو لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا ہے اور صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔ترمیمی بل کا مقصد پیدائش اور اموات کے تاخیر سے ہونے والے اندراج کے عمل کو مزید سخت اور شفاف بنانا ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر پیدائش یا موت کا اندراج دو سال سے زیادہ تاخیر سے کرایا جائے تو اس کے لیے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی غیر موجودگی پر احتجاج کیا۔ قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ دونوں رہنما ایوان میں آکر بیان دیں، جس کے بعد ہنگامہ شروع ہو گیا۔
بحث کے دوران کئی ارکان نے بل پر اپنی رائے پیش کی۔ بی جے ڈی کے رکن ڈاکٹر سنترپت مشرا نے اس شق پر اعتراض کیا جس کے تحت دو سال سے زیادہ تاخیر والے معاملات میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی اجازت لازمی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، اس لیے اس عمل میں عدلیہ کو شامل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہر بچے کی پیدائش اور ہر موت کا درست اور بروقت اندراج یقینی بنانا اور ریکارڈ میں جعلسازی یا غلط استعمال کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال سے زیادہ تاخیر والے معاملات میں اختیار انتظامیہ سے لے کر عدلیہ کو دینے سے جعلی رجسٹریشن پر مؤثر روک لگے گی اور ریکارڈ کی شفافیت اور اعتبار میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 3.5 لاکھ رجسٹریشن مراکز کام کر رہے ہیں۔ سال 2014 میں پیدائش کے اندراج کی شرح 86.6 فیصد تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 99 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ اموات کے اندراج کی شرح 72.5 فیصد سے بڑھ کر 99.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔بحث مکمل ہونے کے بعد بل کو صوتی ووٹنگ سے منظور کر لیا گیا، جس کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan