طلباءکو معاف کرنے کے بارے میں وزیر اعظم کے خیالات ملک کی اکثریتی سوچ کے منافی ہیں: راہل گاندھی
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا منصفانہ امتحانات اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا کو معاف کرنے کا خیال ملک کی اکثریتی سوچ کے خلاف ہے۔راہل گاندھی یہاں کانسٹ
راہل


نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا منصفانہ امتحانات اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا کو معاف کرنے کا خیال ملک کی اکثریتی سوچ کے خلاف ہے۔راہل گاندھی یہاں کانسٹیٹیوشن کلب میں ماروملارچی دراوڑ منیترا کذگم (ایم ڈی ایم کے) کے جنرل سکریٹری وائیکو کی پارلیمانی تقریروں کے مجموعے پارلیمنٹ میں وائیکو کے اجرا کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔اس تقریب میں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی، ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما موجود تھے۔راہل گاندھی نے کہا کہ ملک ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے جہاں طلباءمنصفانہ امتحانات اور بہتر تعلیمی نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں، لیکن وزیر اعظم انہیں معاف کرنے کی بات کر رہے ہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ طلباءکو معاف کرنے والے وزیر اعظم کون ہیں اور انہیں ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے کا حق کہاں سے ملا۔کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی سوچ کے پیچھے ایک خطرناک خیال کام کر رہا ہے۔ یہ نظریہ ہندوستان کے تنوع اور تکثیری کردار سے متصادم ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande