سنیترا پوار کو گونگی گڑیا کہنے پر راشٹروادی کانگریس کا احتجاج، مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل
سنیترا پوار کو گونگی گڑیا کہنے پر راشٹروادی کانگریس کا احتجاج، مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل۔ کانگریس نے معافی سے انکار کیا، ممبئی، تھانے اور پونے میں احتجاج، حکمراں اتحاد اور اپوزیشن آمنے سامنےممبئی ، 4 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پر
POLITICS MAHA SUNETRA PAWAR REMARK


سنیترا پوار کو گونگی گڑیا کہنے پر راشٹروادی کانگریس کا احتجاج، مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل۔ کانگریس نے معافی سے انکار کیا، ممبئی، تھانے اور پونے میں احتجاج، حکمراں اتحاد اور اپوزیشن آمنے سامنےممبئی ، 4 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کو گونگی گڑیا کہنے پر ریاست کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ منگل کو ممبئی، تھانے اور پونے میں کانگریس کے دفاتر کے باہر راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اپنی عوامی بنیاد کھو چکی ہے اور اب سرخیوں میں آنے کے لیے غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسی زبان سیاسی روایت کے منافی ہے۔ریاستی وزیر خوراک و شہری رسد چھگن بھجبل نے کہا کہ ایک زمانے میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بھی گونگی گڑیا کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اپنے عمل سے اس کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنیترا پوار اس وقت ذاتی صدمے سے گزر رہی ہیں، اس لیے ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول سنیترا پوار اپنے کام کے ذریعے اس تنقید کا جواب دیں گی، تاہم اگر آئندہ بھی اس نوعیت کے بیانات دیے گئے تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔راشٹروادی کانگریس کے ریاستی ترجمان سورج چوہان نے اس بیان کو خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے پرتھوی راج چوہان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ معذرت نہیں کرتے تو مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔دوسری جانب کانگریس کے ریاستی ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ گونگی گڑیا کوئی غیر پارلیمانی لفظ نہیں، اس لیے معافی مانگنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راشٹروادی کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی تنقید برداشت نہیں کر پا رہی، جبکہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے کو قبول کرنا ضروری ہے۔مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اس نوعیت کے تبصرے ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشٹروادی کانگریس کو اس تبصرے کو منفی انداز میں لینے کے بجائے ایک محرک کے طور پر قبول کرتے ہوئے مضبوط کردار ادا کرنا چاہیے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande