
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ مرکز میں برسراقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے آج یہاں اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں ملک کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے اور سال 2030 میں بھارت میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں (کامن ویلتھ گیمز) کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔منگل کے روز پارلیمنٹ لائبریری عمارت کے جی ایم سی بالیوگی آڈیٹوریم میں این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے ہفتہ وار ’منگل ملن‘ اجلاس کے دوران مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل منسکھ مانڈویہ نے اپنے محکمے کی جانب سے دو خصوصی منصوبوں پر مبنی پریزنٹیشن پیش کیں۔ اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نتن نوین سمیت این ڈی اے کے متعدد سینئر رہنما اور ارکانِ پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے باقی ماندہ دس دنوں میں دونوں ایوانوں سے اہم بل منظور کرانے کی حکمت عملی بھی طے کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں مانسون اجلاس کے آخری دس دنوں کے لیے پارلیمنٹ میں فلور مینجمنٹ کی حکمت عملی، مختلف قانون سازی کے امور اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بہتر تال میل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے دو خصوصی پریزنٹیشنز پیش کیں۔ پہلی پریزنٹیشن کامن ویلتھ گیمز اور نوجوانوں سے متعلق امور پر مرکوز تھی، جبکہ دوسری میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق منصوبوں اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔اجلاس میں این سی پی آئی کے تین ارکانِ پارلیمنٹ، ابو طاہر، خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان مسلسل دوسری مرتبہ بھی شریک نہیں ہوئے۔ یہ تینوں گزشتہ منگل کو ہونے والے ’منگل ملن‘ اجلاس میں بھی غیر حاضر تھے۔ ان کی مسلسل عدم موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے اور ان کے دوبارہ ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ اسی دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کے بھی آج دہلی پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس معاملے پر اب تک نہ ان تینوں ارکانِ پارلیمنٹ اور نہ ہی این سی پی آئی کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔اجلاس کے بعد رکنِ پارلیمنٹ روی کشن نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس انتہائی مثبت اور مفید رہا۔ ان کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کی ترقی کی رفتار مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے بہتر امکانات جیسے اہم موضوعات پر تعمیری اور بامعنی گفتگو کی گئی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan