
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ ترنمول کانگریس چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی)میں شامل ہونے والے 20 ارکانِ پارلیمنٹ نے منگل کو دہلی کے بنگ بھون میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں مرشد آباد کے تین مسلم ارکانِ پارلیمنٹ ابو طاہر، خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں مغربی بنگال کے انچارج مرکزی وزیر بھوپیندر یادو اور رکنِ پارلیمنٹ نشی کانت دوبے بھی موجود تھے۔گزشتہ کچھ عرصے سے ابو طاہر، خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان پارٹی کی ہفتہ وار’منگل ملن‘ میٹنگوں میں شریک نہیں ہو رہے تھے، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ وہ این سی پی آئی چھوڑ کر دوبارہ ترنمول کانگریس میں واپس جا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق شبھیندو ادھیکاری سے ملاقات کے دوران تینوں ارکانِ پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ وہ این سی پی آئی کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی پارٹی میں برقرار رہیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں وہ باقاعدگی سے ’منگل ملن‘ اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شبھیندو ادھیکاری کو اسی مقصد کے لیے دہلی بلایا گیا تھا تاکہ وہ ارکانِ پارلیمنٹ سے بات چیت کرکے صورتحال کو واضح کریں۔اس سے قبل پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے این سی پی آئی کے فلور لیڈر سدیپ بندیوپادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی کو اب تک سرکاری طور پر منظوری نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بھی بات کی گئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔قابلِ ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے دائر انسدادِ دل بدل قانون کے تحت نااہلی کی درخواستوں پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan