اُدے ندھی اسٹالن کی گرفتاری پر مدراس ہائی کورٹ کی مداخلت،رہائی کا حکم
چنئی، 4 اگست(ہ س)۔ تمل ناڈو اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اُدے ندھی اسٹالن کی گرفتاری کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد اُدے ندھی
اُدے ندھی اسٹالن کی گرفتاری پر مدراس ہائی کورٹ کی مداخلت،رہائی کا حکم


چنئی، 4 اگست(ہ س)۔ تمل ناڈو اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اُدے ندھی اسٹالن کی گرفتاری کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد اُدے ندھی اسٹالن کو منگل ہی کے روز رہا کر دیا جائے۔

اُدے ندھی اسٹالن کی گرفتاری کے خلاف دراوڑ منیترا کڈگم (ڈی ایم کے) نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُدے ندھی اسٹالن کو نہ تو جیل بھیجنے اور نہ ہی عدالت میں پیش کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔ انہیں تنجاور لے جا کر پولیس تھانے میں پوچھ گچھ کی جائے گی، جس کے بعد وہیں سے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔

ریاستی حکومت کا مؤقف سننے کے بعد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد اُدے ندھی اسٹالن کو منگل ہی کے روز رہا کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ پولیس کی تحقیقات میں مکمل تعاون کریں۔ادھر، چنئی سے تنجاور لے جاتے ہوئے پولیس نے اُدے ندھی اسٹالن کو ولوپورم ضلع کے اولاکور پولیس تھانے میں کچھ دیر کے لیے روکا۔ بتایا گیا کہ دوپہر کے کھانے اور دیگر ضروریات کے پیشِ نظر انہیں وہاں عارضی طور پر آرام کی سہولت فراہم کی گئی۔

دراصل تنجاور میں دریائے کاویری کے مسئلے پر ڈی ایم کے کی جانب سے منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے میں اُدے ندھی اسٹالن نے شرکت کی تھی۔ الزام ہے کہ اس دوران انہوں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور اداکارہ ترشا کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ اس کے بعد تنجاور وسطی ضلع کی خواتین ونگ کی منتظم بیروی کی شکایت پر تنجاور مشرقی پولیس تھانے میں اُن کے خلاف نو مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔اسی مقدمے کے سلسلے میں منگل کی صبح تنجاور پولیس اُدے ندھی اسٹالن کی رہائش گاہ پہنچی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ اس موقع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔گرفتاری کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں ڈی ایم کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، جبکہ تملگا ویتری کڈگم (ٹی وی کے) کے کارکنوں نے بھی اُن کے خلاف احتجاج کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande