
نئی دہلی، 04 اگست (ہ س)۔ 2019 سے اب تک 36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو ہندوستان واپس لایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے منگل کو جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ مفرور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کو قومی ترجیح بناتے ہوئے حکومت نے حوالگی، بین الاقوامی رابطہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی میکانزم کو مضبوط کیا ہے۔
وزارت کے مطابق، 2018 میں مفرور اقتصادی مجرم ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد مفروروں کے خلاف کارروائی نے نئی رفتار حاصل کی۔ 2019 میں این آئی اے (ترمیمی) ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) میں ترامیم کے بعد، سال 2020سے مفروروں کی واپسی کے لئے ایک مشن موڈ مہم شروع کی گئی ۔ 2024 سے نافذ تین نئے مجرمانہ قانون کے تحت مفرور ملزمان کے خلاف غیر حاضری میں ٹرائل کا بھی بندوبست کیا گیا۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ 2004 سے 2013 کے درمیان ہندوستان اوسطاً صرف چار مفرور مجرموں کی حوالگی کرنے میں کامیاب ہوا، جب کہ حوالگی کی 110 درخواستیں زیر التوا تھیں۔ اس وقت، حوالگی کے محدود معاہدے، کمزور قانونی ڈھانچہ اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بڑی رکاوٹیں تھیں۔
وزارت کے مطابق، 2022 میں بھارت میں منعقد ہونے والی انٹرپول جنرل اسمبلی کے بعد بین الاقوامی تعاون کو مزید تقویت ملی۔ جنوری 2025 میں شروع ہونے والا بھارت پول پلیٹ فارم، سی بی آئی، ریاستی پولیس اور مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے 1,400 سے زیادہ یونٹوں کو مربوط کرتا ہے، معلومات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرتا ہے اور حوالگی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
حکومت نے کہا کہ 2019 اور 2026 کے درمیان، منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مفرور مجرموں کے تقریباً 17,874 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے۔ انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹسز کے اجراءمیں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں 40 ریڈ کارنر نوٹسز، 2023 میں 100، 2024 میں 107، 2025 میں 112 اور جولائی 2026 تک 182 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں کل 401 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق 2019 سے جولائی 2026 تک واپس لائے گئے 274 مفرور ملزمان میں قتل، ڈکیتی اور دیگر پرتشدد جرائم کے 62 ملزمان، جنسی جرائم اور پوکسو کے 53 معاملات، منظم جرائم اور گینگسٹر کے 42، انسانی اسمگلنگ اور اغوا کے 18، دہشت گردی اور مالیاتی سرگرمیوں کے 17، انسداد دہشت گردی اور مالیاتی سرگرمیوں کے 9 ملزمان شامل ہیں۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ آپریشن ترشول کے تحت بیرون ملک چھپے ہوئے مفروروں کو انٹرپول کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ان پٹ، ڈیجیٹل فوٹ پرنٹ تجزیہ اور پروفائل میپنگ کا استعمال کرتے ہوئے ٹریس کیا گیا۔ کئی معاملہ میں ملزمان نے اپنی شناخت اور نام تبدیل کر رکھے تھے لیکن بھارتی ایجنسیوں نے تکنیکی مدد سے ان کا سراغ لگایا۔
وزارت نے کہا کہ تہور حسین رانا کی امریکہ سے حوالگی ہندوستان کی قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی تعاون کی صلاحیتوں کی ایک اہم مثال ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ مفرور مجرموں کی واپسی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف ایجنسیوں کے درمیان مربوط مکمل حکومتی نقطہ نظر کا نتیجہ ہے۔ جنوری 2026 میں انٹیلی جنس بیورو کے ملٹی ایجنسی سینٹر (ایم اے سی) کے تحت ایک مستقل فوکس گروپ کی تشکیل کو بھی اس سمت میں ایک اہم ادارہ جاتی قدم قرار دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی