دہلی کے راوز ایونیو کورٹ کمپلیکس میں 14 خصوصی عدالتوں کا قیام ، فاسٹ ٹریک کورٹ میں آج پیپر لیک معاملوں پر سماعت ہوگی
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ دہشت گردانہ معاملوں، منشیات اور پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی فوری سماعت کے لیے دہلی کے راوز ایونیو کورٹ کمپلیکس میں 14 خصوصی عدالتوں (اسپیشل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آج ہی پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی نو تشکیل شدہ
راوز ایونیو کورٹ کمپلیکس


نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ دہشت گردانہ معاملوں، منشیات اور پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی فوری سماعت کے لیے دہلی کے راوز ایونیو کورٹ کمپلیکس میں 14 خصوصی عدالتوں (اسپیشل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آج ہی پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی نو تشکیل شدہ فاسٹ ٹریک کورٹ سماعت کرے گی۔ 24 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے کی تیزی سے سماعت کے لیے راوز ایونیو کورٹ میں فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔

انو گروور بَلیگا کوفاسٹ ٹریک کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ نو تشکیل شدہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں 27 جولائی کو پہلی سماعت ہوئی۔ یہ سماعت ملتوی کرنی پڑی کیونکہ سی بی آئی کی جانب سے پبلک پراسیکوٹر مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ یکم اگست کو ہائی کورٹ نے دہشت گردانہ معاملوں، ڈرگز اور پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی فوری سماعت کے لیے 14 نئی عدالتوں کے قیام کا حکم دیا۔ اس حکم میں پیپر لیک معاملوں کی سماعت کے لیے انو گروور بَلیگا کی جگہ اجے گپتا کو مقرر کیا گیا۔

ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق، راؤز ایونیو کورٹ کمپلیکس میں این آئی اے ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت درج معاملوں کے لیے چھ کورٹ، مکوکا کے معاملوں کے لیے تین کورٹ، این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ڈرگز سے منسلک معاملوں کی سماعت کے لیے چار کورٹ، پیپر لیک جیسے معاملوں کی فوری سماعت کے لیے ایک کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 3 جولائی کو چیف جسٹس سوریا کانت، دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور دہلی ہائی کورٹ میں راوز ایونیو کورٹ کی پورٹ فولیو جج جسٹس جیوتی سنگھ نے ان 14 خصوصی عدالتوں کا افتتاح کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande