
گورنر کی اجازت کے بعد مبینہ سو کروڑ روپے کی وصولی کیس میں عدالتی کارروائی کی راہ ہموار، دیشمکھ نے الزامات کو سازش قرار دیا
ممبئی ، 4 اگست (ہ س) مہاراشٹر کے گورنر جِشنو دیو ورما نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف مبینہ سو کروڑ روپے کی وصولی اور منی لانڈرنگ کیس میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کے بعد ان کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کو گورنر کی منظوری کا مکتوب خصوصی عدالت میں پیش کیا۔ سرکاری وکیل سنیل گونسالویس کے مطابق گورنر نے 21 مئی 2026 کو مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی، جسے اب عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد انیل دیشمکھ کے خلاف باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ممکن ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ 2021 میں، جب انیل دیشمکھ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ تھے، اس وقت کے ممبئی پولیس کمشنر پربیر سنگھ نے ان پر عہدے کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پربیر سنگھ کا دعویٰ تھا کہ انیل دیشمکھ نے اس وقت کے پولیس افسر سچن وازے اور دیگر افسران کو ممبئی کے باروں اور ریستورانوں سے ہر ماہ سو کروڑ روپے وصول کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ان الزامات کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے تحقیقات شروع کیں۔ منی لانڈرنگ کیس میں ای ڈی نے انیل دیشمکھ کو گرفتار بھی کیا تھا اور وہ طویل عرصے تک عدالتی تحویل میں رہے۔ فی الحال وہ ضمانت پر ہیں۔گورنر کی منظوری کے بعد اب سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے مبینہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے کی باقاعدہ عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔دوسری جانب انیل دیشمکھ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے مقدمہ چلانے کی منظوری متوقع تھی۔ انہوں نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت کار مکیش امبانی کی رہائش گاہ اینٹیلیا کے قریب جلیٹن رکھنے کے مقدمے میں سابق پولیس افسر سچن وازے گرفتار ہوئے تھے اور عدالت ان پر فردِ جرم بھی عائد کر چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے معاملے کی منصوبہ بندی اس وقت کے ممبئی پولیس کمشنر پربیر سنگھ کے دفتر میں کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا تبادلہ بھی کر دیا گیا۔ انیل دیشمکھ نے کہا کہ اس کے باوجود تفتیشی ایجنسیوں نے جلیٹن رکھنے کے مقدمے میں اب تک پربیر سنگھ کو ملزم نہیں بنایا، جس سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے اور وہ قانونی طور پر اس کا مقابلہ کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے