مدھیہ پردیش کے دتیا ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد ایکشن موڈ میں بی جے پی، وزیر اعلیٰ رہائش گاہ پر غور وخوض ہوا
۔ داخلی چپقلش کی جانچ کے لیے پارٹی نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی بھوپال، 04 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار سے 6,016 ووٹوں سے ملی شکست کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی تنظیم میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ دارالحکومت بھوپال میں
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور آشوتوش تیواری، فائل فوٹو


۔ داخلی چپقلش کی جانچ کے لیے پارٹی نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی

بھوپال، 04 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار سے 6,016 ووٹوں سے ملی شکست کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی تنظیم میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ دارالحکومت بھوپال میں واقع وزیر اعلیٰ رہائش گاہ پر منگل کو منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شکست کی وجوہات اور داخلی چپقلش کی شکایتوں پر غور و خوض ہوا۔ وہیں، انتخابی نتائج کے تجزیے کے لیے دو رکنی جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اصل میں، پیر کو دتیا ضمنی انتخاب کے نتائج میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی بھوپال رہائش گاہ پر ایک اہم تجزیاتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڑا، انتخاب انچارج بھارت سنگھ کشواہا اور وزیر راو ادے پرتاپ سنگھ سمیت تقریباً دو درجن سینئر لیڈران شامل ہوئے۔ پارٹی کے ہارے ہوئے امیدوار آشوتوش تیواری نے بھی اجلاس میں پہنچ کر تنظیم کے اندر ہوئی مبینہ اندرونی مخالفت اور اس سے جڑے آڈیو ثبوت پیش کیے۔

ذرائع کے مطابق، شہری علاقے میں پچھڑنے کی وجہ سے دتیا کے کچھ مقامی کونسلرز اور تنظیمی عہدیداروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پارٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ انتخاب کے دوران وائرل ہوئے مبینہ گمراہ کن پوسٹ اور فرضی خطوط کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ایسے پوسٹ شیئر کرنے والوں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے اور ان کے سیاسی تعلقات کی بھی جانچ ہوگی۔ سابق وزیرِ داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے ٹکٹ نہیں ملنے کے باوجود بی جے پی امیدوار آشوتوش تیواری کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ تاہم اس کے باوجود بھی پارٹی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے انتخابی نتائج کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے لیے ریاستی جنرل سکریٹری گورو رندی وے اور سینئر لیڈر امبارام کراڑا کی دو رکنی کمیٹی بنائی ہے۔ یہ کمیٹی زمینی سطح پر عہدیداروں سے بات چیت کر کے اپنی رپورٹ ریاستی صدر کو سونپے گی۔ ریاستی صدر کھنڈیلوال نے کہا کہ بی جے پی میں نظم و ضبط سب سے اوپر ہے۔ کوئی بھی کارکن یا عہدیدار، چاہے وہ کسی بھی ذمہ داری پر ہو، تنظیم کے نظم و ضبط سے اوپر نہیں ہے۔ نظم و ضبط کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف تنظیم کے قواعد کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔

وہیں، انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ سابق وزیر یشودھرا راجے سندھیا نے سوشل میڈیا ایکس پر ’’خود احتسابی کا وقت...‘‘ لکھ کر اشارے دیے، وہیں ٹیکم گڑھ ضلع پنچایت صدر امیتا راہل سنگھ نے بھی افسران کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ’’جب کارکن کی جگہ افسر یہ کہنے لگیں کہ ہماری پہنچ اوپر تک ہے، تب نتائج برعکس ہی آتے ہیں۔‘‘

انتخابی نتائج میں ملی شکست کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ سب سے اوپر ہے اور بی جے پی اس فیصلے کا پورے عجز و انکسار کے ساتھ احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی خامیوں کا اندازہ لگا کر مستقبل میں اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ عوام کے درمیان جائے گی۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں کانگریس کے گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے آشوتوش تیواری کو 6,016 ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔ کانگریس کے گھنشیام سنگھ کو 66,757 (42.39 فیصد) ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی امیدوار آشوتوش تیواری کو 60,741 (38.57 فیصد) ووٹ ملے۔ اس شکست کے بعد بی جے پی اپنے تنظیمی ڈھانچے کو درست کرنے میں مصروف ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande