
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف کے درمیان منگل کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے ہندوستان-ازبکستان کے باہمی تعلقات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔
لوک سبھا سکریٹریٹ کے مطابق پارلیمانی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور باہمی علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس موقع پر بختیار سیدوف نے اوم برلا کو ایک خصوصی یادگاری اشاعت پیش کی جس میں ازبکستان کی میزبانی میں بین الپارلیمانی یونین کی 150ویں اسمبلی کی تفصیل تھی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا، ”دونوں ممالک صدیوں پرانے تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں، جو ان کی پائیدار دوستی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بڑھتے ہوئے سیاسی اعتماد، تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینا، اور عوام سے عوام کے تبادلے آنے والے برسوں میں دوطرفہ شراکت کو مزید مضبوط کریں گے۔“
ہندوستان کی جمہوری روایات پر بات کرتے ہوئے، برلا نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر، ہندوستان میں ایک متحرک پارلیمانی نظام ہے جو اپنے لوگوں کی امنگوں اور تنوع کو مو¿ثر طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔
برلا نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل اختراع، ٹیکنالوجی، کنیکٹی ویٹی، سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں ہندوستان کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوان پوری دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں اور معروف یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھ رہا ہے۔
مارچ 2026 میں تشکیل پانے والے ہندوستان-ازبکستان پارلیمانی دوستی گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے، برلا نے یقین ظاہر کیا کہ اس اقدام سے قانون سازی کے کام کو نئی تحریک ملے گی اور اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور عوام کے درمیان تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
بختیار سیدوف نے ہندوستان کے ساتھ اپنی کثیر جہتی شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے ازبکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تاشقند سیاسی، اقتصادی اور پارلیمانی تعاون کو بڑھانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ازبکستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے قانون سازی کے تجربے سے خاصا فائدہ اٹھائے گا۔ بہتر پارلیمانی کام کاج جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے مشترکہ وڑن کی ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد