
گوہاٹی، 4 اگست (ہ س): آسام کے سات اضلاع سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں۔ ان اضلاع میں چرائیدیو، شیوساگر، دھیماجی، گولاگھاٹ، بسوناتھ، جورہاٹ اور لکھیم پور شامل ہیں۔ ان اضلاع کے 380 گاؤں کی ایک لاکھ 28 ہزار سے زیادہ کی آبادی متاثر ہوئی ہے اور 14,230.148 ہیکٹر زرعی اراضی زیر آب ہے۔
سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی بنیادی طور پر بالائی آسام کے چار اضلاع: شیو ساگر، چرائیدیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ میں نظر آتی ہے۔ شیو ساگر ضلع میں صورتحال سب سے زیادہ تشویش ناک ہے، جہاں پانی اور کیچڑ اب بھی گھروں اور سڑکوں پر جمع ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ رضاکار تنظیمیں اور افراد امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما 2 اگست سے بالائی آسام میں قیام کئے ہوئے ہیں، وہ ذاتی طور پر تمام پہلوؤں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے 3 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق، دھنسیری ندی نومالی گڑھ کے علاقے میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔
اس دوران پیر کو شیو ساگر ضلع سے مزید دو افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، جس سے ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی کل تعداد 87 ہوگئی۔ حکومت سیلاب سے متاثرہ آبادی کے لیے کل 55 کیمپ چلا رہی ہے- جن میں 38 ریلیف کیمپ اور 17 امدادی تقسیم کے مراکز ہیں۔ اس وقت 11,066 افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جب کہ 184 افراد (غیر کیمپ کے رہائشی) امدادی مراکز میں امداد حاصل کر رہے ہیں۔ ایس ڈی آر ایف، آرمی/ نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، ایئر فورس، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف اینڈ ای ایس)، سرکل آفسز/مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس/تربیت یافتہ رضاکار، اور فائر ڈیپارٹمنٹ جیسی ایجنسیوں کو سیلاب سے نجات اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ہفتہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 76 طبی ٹیمیں تعینات کیں، جن میں 23 کشتیاں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
سیلاب نے سڑکوں، پلوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت صورتحال کا جائزہ لینے اور مرمت کے لیے منصوبہ بندی کے لیے مسلسل جائزہ میٹینگیں کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد