
نئی دہلی،04اگست (ہ س)۔ جمعیۃ علمائ ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا تھا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ کسی آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس طرح کا بیان نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ملک کی مذہبی، تعلیمی اور جمہوری روایات کے بھی منافی ہے۔ ان کے مطابق آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور تمام مذاہب و تعلیمی اداروں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں ایسا الزام وہی شخص لگا سکتا ہے جو نہ ملک کی تاریخ سے واقف ہو اور نہ ہی مدارس کی خدمات سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور مدارس کے فارغین کو دہشت گرد قرار دینا انتہائی قابلِ مذمت ہے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علمائ نے تحریکِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علمائ کی قربانیوں کو ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی سیاست کے لیے مسلسل مسلمانوں اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی نصابِ تعلیم، کبھی حب الوطنی اور اب دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد معاشرے میں نفرت، تقسیم اور باہمی بداعتمادی کو فروغ دینا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ پوری ریاست کے تمام شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے ایسے عہدے پر فائز افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد، باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں، نہ کہ ایسے بیانات دیں جن سے کروڑوں شہریوں کے جذبات مجروح ہوں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais