
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منگل کو ای 20 ایندھن پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کی قیادت کی۔ اس دوران ان کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر منیش سسودیا، راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ اور دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھردواج سمیت پارٹی کے کئی رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے۔
مارچ کے دوران، اروند کیجریوال نے کہا کہ ای 20 پیٹرول پر بڑے پیمانے پر عوامی غصہ ہے اورلوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی وزیر اعظم کو ای 20 ایندھن کے خلاف 2.3 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے دستخط شدہ پٹیشن پیش کرنے جارہی ہے۔
کیجریوال نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ ایتھنول پر مبنی ایندھن کو زبردستی لوگوں پر مسلط نہ کیا جائے اور حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔لیکن وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہے آپ رہنماؤں اور کارکنوں کو دہلی پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا ۔ اس کے بعد اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سنجے سنگھ اور دیگر لیڈروں نے فیروز شاہ روڈ پر دھرنا شروع کر دیا۔
اس دوران ، عام آدمی پارٹی دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھردواج نے کہا کہ آج ہم یہاں یہ عرضیاں لے کر آئے ہیں اور انہیں آگے بڑھانے کی اجازت ملنی چاہیے، اگر کوئی مسئلہ ہے تووزیر اعظم کے دفتر سے کوئی یہاں آکر درخواستیں لے سکتا ہے اور اس مسئلے پر بات کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔
آپ لیڈر انوراگ ڈھانڈا نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں گاڑیوں کے مالکان ای 20 پالیسی کو لے کر فکر مند ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی تحفظات کو نظر انداز کر رہی ہے اور وزیر اعظم کو اس معاملے پر عوام کی بات سننی چاہیے۔ ڈھانڈا نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایتھنول پالیسی پر فیصلے بیرونی دباو¿ کے تحت کیے جا رہے ہیں اور حکومت کو اس معاملے پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد