
پریاگ راج، 31 اگست (ہ س):۔
اتر پردیش کے پریاگ راج کے پڑوسی ضلع کوشامبی کے پیپری تھانہ علاقے میں پیر کو ایک پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے زبردست دھماکے میں 11 افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سوروپ رانی نہرو اسپتال سمیت پریاگ راج کے دیگر اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔
کوشامبی کے ضلع مجسٹریٹ امت پال شرما نے 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کے علاج اور راحتی کاموں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حادثے کی وجوہات کی بھی تحقیقات کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیکٹری کا لائسنس 2024 میں ہی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے خلاف جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔
کوشامبی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ستیہ نارائن پرجاپت کے مطابق اس معاملے میں عادل سمیت چھ افراد کے خلاف پیپری تھانے میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
حادثے میں جان گنوانے والوں میں پریانجلی (5)، پروین سنگھ (13)، جہانوی (12)، آدتیہ (12)، روی (8)، گیان سنگھ (40)، آدتیہ (8)، انج±و (32)، وکرم سروج (35)، انش (6) اور ننھا (4) شامل ہیں۔
حادثے میں زخمی پانچ افراد کا علاج سوروپ رانی نہرو اسپتال میں جاری ہے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کو فی کس دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو زخمیوں کے مناسب علاج اور راحتی کاموں میں کسی بھی قسم کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے بھی حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کیے جانے کی بات کہی ہے۔
کوشامبی کے رکن پارلیمنٹ پشپیندر سروج نے حادثے کے حوالے سے انتظامی غفلت پر سوال اٹھاتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کی جواب دہی طے کی جانی چاہیے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
حادثے کے بعد جائے وقوعہ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ