
تہران،31اگست(ہ س)۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی نظام کے ذریعے امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون کارروائی کے بعد خلیجی سمندر میں جا گرا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی ڈرون کو فضائی دفاعی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور خطے میں فوجی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس سے قبل امریکہ نے ایران کے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی فوج نے اتوار کے روز جزیرے پر موجود ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔امریکی عہدیدار نے الزام عائد کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار لارک جزیرے سے آبنائے ہرمز میں موجود سمندری بارودی سرنگوں کے علاقے کی جانب راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔امریکی حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کو لارک جزیرے پر حملے کی قیمت معاشی اور عسکری، دونوں محاذوں پر ادا کرنا پڑے گی۔بعد ازاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ایرانی فوج کے مطابق حملے میں ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اہلکاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے کہا کہ یہ کارروائی لارک جزیرے پر پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔ایم کیو-9 ڈرون مار گرائے جانے کے ایرانی دعوے اور امریکی و ایرانی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے گرد فوجی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کی خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔تازہ صورتحال نے خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan