
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔
بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر تقریباً 25 سال سے جاری تنازع پیر کے روز حل ہوگیا۔ مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ کی موجودگی میں دونوں ریاستوں کے درمیان اس سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے سے بہار اور جھارکھنڈ کے بڑے دیہی علاقوں میں لاکھوں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو پینے کا پانی بھی مل سکے گا۔
ایم او یو پر دستخط کے موقع پر جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ، مرکزی داخلہ سکریٹری اور مرکز و دونوں ریاستوں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔
شاہ نے کہا کہ بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان آج ہونے والا معاہدہ مشرقی ہندوستان کے طویل عرصے سے چلے آرہے آبی تنازع کے حل کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ٹیم انڈیا‘ اور باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کے نظریے کی بہترین مثال ہے۔ اگر تمام ریاستیں اپنی الگ شناخت کے ساتھ قومی مفاد میں ’ٹیم انڈیا‘ کے طور پر آگے بڑھیں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل نہ نکالا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بات چیت اور باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کے ساتھ تقریباً 25 سال پرانے اس تنازع کو حل کیا گیا ہے۔ اس سے دونوں ریاستوں کے کسانوں، دیہی علاقوں اور بڑی آبادی سے متعلق آبپاشی اور پینے کے پانی کے مسائل کا مستقل حل نکل آیا ہے۔
شاہ نے کہا کہ ان کی پہل پر بین ریاستی کونسل کے ذریعے مختلف ریاستوں کے درمیان کئی دہائیوں سے زیر التوا آبی تنازعات کو حل کیا جا رہا ہے۔ اس سال اب تک ریاستوں کے درمیان چار تاریخی معاہدے ہو چکے ہیں۔
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سون ندی کے پانی کی تقسیم کے مسئلے کے حل کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ