
نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک میں بھوک ہڑتال کرنے والے لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کا ماننا ہے کہ سی جے پی کی قیادت سنبھالنے والے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کے سیاسی مفادات ہو سکتے ہیں۔ البتہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تنظیم ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرتی رہے اور سیاسی پلیٹ فارم نہ بنے، کیونکہ اس سے اس کا بھرم ختم ہو جائے گا۔
سماجی کارکن سونم وانگچک نے یوٹیوبر پرکھر گپتا کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ اس میں وانگچک نے کہا کہ وہ یہ نہیں مانتے کہ سی جے پی کی قیادت کرنے والے لوگ کوئی سنت مہاتما ہیں۔ ان کے اپنے سیاسی مفادات ہو سکتے ہیں۔ وہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے کہ وہ آگے چل کر بدعنوان نہیں ہوں گے۔
وانگچک نے کہا، ’’میں نے کافی پرکھا تو محسوس ہوا کہ سیاسی عزائم ضرور ہوں گے اور شاید یہ کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ ...لیکن اس پلیٹ فارم (سی جے پی) کو آپ (سی جے پی قیادت) لوگوں نے ایک سیاسی پارٹی کے طور پر شروع نہیں کیا ہے، اس کے بھرم کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک غیر جانبدار سیاسی پریشر گروپ بنائے رکھنا چاہیے، جس سے آپ زیادہ کام کر سکیں گے۔ اس پلیٹ فارم کو خود سیاسی نہیں بنانا چاہیے، تاکہ لوگوں کا اعتماد زیادہ برقرار رہے۔ باقی آگے جا کر آپ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں یا نئی سیاسی پارٹی بنا سکتے ہیں، لیکن اس پلیٹ فارم کو جس میں لوگوں نے ایک اسٹوڈنٹس موومنٹ دیکھی ہے، اسے کوئی سیاسی رنگ دینا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اب تک انہیں سی جے پی قیادت کے بدعنوان ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں، لیکن مستقبل کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے اندازے کے مطابق یہ لوگ اوسط سے بہتر، سمجھدار اور باشعور ہیں، لیکن آگے چل کر وہ کیا کرتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن