
لکھنؤ، 3 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے دن پیر کو موجودہ رکن اسمبلی عالم بدیع اور 21 سابق اراکین اسمبلی کے انتقال پر ایوان میں تعزیتی قرارداد پیش کی گئی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایوان میں تعزیتی تجویز پیش کی، جس پر قائدِ ایوان، قائدِ حزبِ اختلاف اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اظہارِ افسوس کیا۔
اس کے بعد اسپیکر اسمبلی ستیش مہانا نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تعزیتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعظم گڑھ سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی عالم بدیع کا 23 جولائی 2026 کو انتقال ہو گیا تھا۔ وہ موجودہ اسمبلی کے معمر ترین رکن تھے۔ ان کی پیدائش 16 مارچ 1936 کو ہوئی تھی اور وہ پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ پہلی بار 1996 میں مدھیابتی اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اسمبلی کی کئی کمیٹیوں کے رکن رہے اور ایک مقبول عوامی رہنما تھے۔ سماج میں اپنی دیانت داری، سادگی اور عوامی خدمت کے جذبے کے لیے پہچانے جاتے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اسپیکر سے درخواست کرتے ہیں کہ ایوان کی تعزیت ان کے اہل خانہ تک پہنچائی جائے۔
قائدِ حزبِ اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کی تعزیتی قرارداد کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالم بدیع بڑھاپے کے باوجود نوجوانوں جیسا جوش رکھتے تھے۔ بیماری کے باعث زیرِ علاج ہونے کے باوجود آئندہ اسمبلی انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے۔وزیر اوم پرکاش راج بھر نے کہا کہ عالم بدیع کے انتقال سے ریاست ایک اچھے سماجی کارکن اور عوامی رہنما سے محروم ہو گئی ہے اور ان کا انتقال ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔وزیر سنجے نشاد نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر رکن اسمبلی کا انتقال ہم سب کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔کانگریس قانون ساز پارٹی کی رہنما آرادھنا مشرا مونا نے کہا کہ عالم بدیع نے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد ملازمت کی، تاہم سماجی خدمت ہمیشہ ان کی ترجیح رہی۔ ان کی اصل شناخت ان کا عہدہ نہیں بلکہ ان کی سادگی تھی۔ وہ عمر کے آخری حصے تک سماجی خدمت میں سرگرم رہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قومی یکجہتی تنظیم قائم کی۔
اپنا دل (ایس) کے رام ویواس ورما، راشٹریہ لوک دل کے راجپال سنگھ بالیان اور جن ستّا دل (لوکتانترک) کے ونود سروج نے بھی مرحوم کے لیے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کی عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 21 سابق اراکین اسمبلی کے انتقال پر بھی تعزیتی قرارداد پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق اراکین اسمبلی بھولا پانڈے (بلیا)، امیتابھ لوانیا اور جگن ناتھ چودھری (آگرہ)، رام پیارے آزاد (مہاراج گنج)، گوپی ناتھ ورما(امبیڈکر نگر)، یش پال سنگھ (بجنور)، رادھے شیام بھارتی(پریاگ راج)، سنگرام سنگھ (بارہ بنکی)، ہری نارائن راج بھر اور ڈاکٹر بھگود دیال(بلیا)، ارون کمار منّا (جونپور)، اوم وتی دیوی (بجنور)، موہن سنگھ(سہارنپور)، افسر یو احمد(سنت کبیر نگر)، تیج بھان سنگھ (امیٹھی)، رودر پرتاپ سنگھ (دیوریا)، پیارے لال شنکھوار (کانپور دیہات)، اونکار سنگھ(بدایوں)، راجندر ترپاٹھی (پریاگ راج) اور ہنومنت سنگھ (بلرام پور) کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنی حکومت اور پارٹی کی جانب سے تمام آنجہانی اراکین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسپیکر ستیش مہانا نے یقین دہانی کرائی کہ ایوان کی جانب سے اظہارِ تعزیت آنجہانی کے اہل خانہ تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے بعد اسمبلی کی کارروائی منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan