دو پہیہ گاڑی کو بچانے کی کوشش کے دوران دو کاریں آپس میں ٹکرا گئیں، معصوم سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک
مدورائی، 3 اگست (ہ س)۔ تمل ناڈو کے مدورائی ضلع میں پیر کو پیش آئے ایک سڑک حادثے میں ایک معصوم بچی سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک اور تین دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ میلور کے قریب قومی شاہراہ پر اس وقت پیش آیا جب ایک کار ڈرائیور نے ایک دو پ
TN-FOUR-DEAD-ROAD-ACCIDENT-MADURAI


مدورائی، 3 اگست (ہ س)۔ تمل ناڈو کے مدورائی ضلع میں پیر کو پیش آئے ایک سڑک حادثے میں ایک معصوم بچی سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک اور تین دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ میلور کے قریب قومی شاہراہ پر اس وقت پیش آیا جب ایک کار ڈرائیور نے ایک دو پہیہ گاڑی کو بچانے کی کوشش میں اپنا توازن کھو دیا۔ کار ڈیوائیڈر کو عبور کرتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والی دوسری کار سے ٹکرا گئی۔

پولیس کے مطابق، چنئی کے پاڈیکوپم علاقے کا رہنے والے سری رام اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھٹیاں منانے کار سے مدورائی جا ر ہے تھے ۔ ان کی کار میلور کے قریب تھمبے پٹی گاو¿ں کے قریب چار لین والی قومی شاہراہ سے گزر رہی تھی ۔ اسی دوران اچانک دو پہیہ گاڑی سڑک عبور کرنے لگی۔ اس سے ٹکر سے بچنے کی کوشش میں سری رام نے تیزی سے کا ر کودائیں طرف موڑ دیا۔

اچانک سمت بدلنے کی وجہ سے کار ڈرائیورکے قابو سے باہر ہو گئی ۔ کار سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی اور مخالف لین میں جا پہنچی، جہاں مدورائی سے تروچیراپلی جانے والی دوسری کار سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

سری رام، ان کی بیوی رکشنا، ان کی گود میں موجود معصوم بیٹی پرنیتا اور رشتہ دار راج کماری کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ دونوں کاروں میں سوار تین دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے اور ملبے میں پھنس گئے۔

اطلاع ملنے پر میلور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شیوکمار کی قیادت میں پولیس اور بچاو¿ ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو نکالنے کے لیے تباہ شدہ کاروں کو کاٹ کر انہیں میلور کے سرکاری اسپتال پہنچایا، جہاں وہ فی الحال زیر علاج ہیں۔

پولیس نے چاروں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ حادثے کی وجہ سے مدورائی-تیروچیراپلی قومی شاہراہ پر ٹریفک میں کچھ دیر کے لیے خلل پڑا۔ بعد ازاں تباہ شدہ گاڑیوں کو ہٹانے کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی۔ میلور پولیس نے ایک کیس درج کرکے حادثے کی وجوہات کی تفصیلی تحقیقات شروع کردی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande