
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دہلی اور دیگر ریاستیں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کو منسوخ یا واپس لے سکیں گی۔ ریاستی حکومتیں ان کے خلاف مقدمات بند کر سکتی ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے واضح کیا کہ گزشتہ حکم میں، ”مجرمانہ ماضی“ والے مظاہرین سے مراد صرف ان سے تھا جن کے خلاف سنگین معاملے اور سنگین الزامات (قتل جیسے) ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر معمولی الزامات والے مظاہرین کو راحت ملے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم پیلٹ گن پر پروٹوکول اور گائیڈ لائن طے کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ ہم واضح کریں گے کہ پیلٹ گن کا کن حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وہ مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ مہتا نے مزید کہا کہ جن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ زیر التوا نہیں ہے، انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کی وکیل ورندا گروور نے کہاکہ پولیس نے کلوزر رپورٹ داخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مہتا نے تب کہا کہ ایف آئی آر کے سلسلے میں کچھ غلط فہمی تھی۔ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ حکومت اس معاملے کا حل نکالنے پر کام کر رہی ہے۔
سماعت کے دوران، درخواست گزاروں کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے جن لوگوں کی شناخت ہوئی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ متعدد ویڈیوز ہیں ، جن میں پولیس افسران کا رویہ واضح طور پر نظر ا ٓ رہا ہے۔ ان پولیس اہلکاروں کی شناخت ہوئی ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی جانی چاہئے کہ انہوں نے پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت کیسے دی۔
سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو مظاہرین کے خلاف تمام ریاستی کارروائیوں پر پابندی لگا دی تھی۔ عدالت نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ نابالغوں کو فوری طور پر رہا کریں۔ عدالت نے کہا کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو تحفظ نہیں ملے گا۔ عدالت نے دہلی، مہاراشٹر، بہار، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے چیف سکریٹریوں کو نوٹس جاری کیا تھا۔
20 جولائی کو مظاہرین نے دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا تھا، اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے احتجاج کے دوران کئی مقامات پر تشدد کا سہارا لیا، طلبا پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد