
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے پیر کے روز شدید اپوزیشن ہنگامے کے باوجود مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) ترمیمی بل 2026 صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد ادائیگی کے نظام کو زیادہ شفاف اور بروقت بنانا، ضابطوں پر عمل درآمد کو آسان کرنا اور کاروباری ماحول کو مزید اعتماد پر مبنی بنانا ہے، تاکہ صنعت کاروں پر غیر ضروری انتظامی بوجھ کم ہو سکے۔
بل کے تحت چھوٹے اور انتہائی چھوٹے کاروباری اداروں کو ادائیگی میں تاخیر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ ان کے حق میں آنے والے ثالثی فیصلوں پر عمل درآمد کے عمل کو بھی تیز اور آسان بنایا جائے گا تاکہ انہیں بروقت انصاف مل سکے۔
دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر نائب چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے مرکزی وزیر برائے ایم ایس ایم ای جیتن رام مانجھی کو بل پر بحث شروع کرنے کی دعوت دی۔ جیسے ہی بحث کا آغاز ہوا، اپوزیشن نے قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کو ضابطہ 267 کے تحت پہلے اظہارِ خیال کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔ ابتدا میں نائب چیئرمین نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں چیئرمین پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں، تاہم مسلسل احتجاج کے بعد کھڑگے کو بولنے کی اجازت دے دی گئی۔
کھڑگے نے اپنی تقریر میں رام جنم بھومی کا ذکر شروع کیا، لیکن اس سے قبل کہ وہ اپنی بات مکمل کرتے، ایوان کے قائد جے پی نڈا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر نے بل پر بحث شروع کر دی ہے، اس لیے کارروائی کو اسی موضوع تک محدود رکھا جائے۔
اس کے بعد کانگریس کے رکن اجے ماکن نے کہا کہ اپنے طویل پارلیمانی تجربے میں پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ جب انہوں نے بل کی بحث کو طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی سے جوڑنے کی کوشش کی تو نائب چیئرمین نے واضح کیا کہ بل سے غیر متعلقہ تبصرے کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ جے پی نڈا نے ماکن کے ریمارکس ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوبارہ موقع ملنے پر ماکن نے کہا کہ وہ بل پر ہی بات کریں گے، تاہم انہوں نے وزیرِ داخلہ کی غیر موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو نے کہا کہ رکن کو تین مرتبہ موقع دیا گیا، لیکن انہوں نے بل پر گفتگو کرنے کے بجائے دیگر معاملات اٹھائے۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے ’وزیرِ داخلہ ایوان میں آؤ‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔
سی پی آئی(ایم) کے رکن جان بریٹاس سمیت کئی ارکان نے ضابطہ 258 کے تحت اعتراض اٹھانے کی کوشش کی۔ نائب چیئرمین نے کہا کہ مسلسل ہنگامے کے دوران اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا، تاہم انہوں نے بریٹاس کو مختصر اظہارِ خیال کا موقع دیا، لیکن جیسے ہی انہوں نے وزیرِ داخلہ کی موجودگی کا مطالبہ کیا، انہیں روک دیا گیا۔
شور شرابے کے باوجود متعدد ارکان نے بل پر اپنے خیالات پیش کیے، جن میں ڈاکٹر سنتروپت مشرا (بی جے ڈی)، گولا بابوراؤ(وائی ایس آر سی پی)، ایم تھمبی دورئی(اے آئی اے ڈی ایم کے)، راجیندر ہیرالال جین (این سی پی)، مستان راؤ یادو بیدھا (تلگو دیشم پارٹی)، روی چندر وڈّی راجو (بی آر ایس)، پرمود بورو(یو پی پی ایل)، سنجے سیٹھ (بی جے پی) اور رام جی (بی ایس پی) شامل تھے۔
بحث کے اختتام پر مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم ایم ایس ایم ای شعبے کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بل کا مقصد بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا، ضابطوں کی پیچیدگی کم کرنا، ادائیگی سے متعلق تنازعات کے جلد تصفیے کو ممکن بنانا اور ریاستوں کو مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز فیسیلیٹیشن کونسل کے قیام میں زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترمیم نافذ ہونے کے بعد ادائیگی کے نظام میں نظم و ضبط بہتر ہوگا، تنازعات جلد نمٹائے جا سکیں گے اور کاروبار کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ریاستوں کو ضرورت کے مطابق مزید فیسیلیٹیشن کونسلیں قائم کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جس سے مقامی سطح پر تنازعات کا تیز رفتار حل ممکن ہو سکے گا۔حکومت کے مطابق اس قانون سے ایم ایس ایم ای شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو مزید تقویت حاصل ہوگی، کیونکہ ایم ایس ایم ای شعبہ بھارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔مسلسل ہنگامے اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود آخرکار یہ ترمیمی بل صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan