
ای ٹوئنٹی پٹرول کی لازمی شرط واپس لینے اور عام پٹرول کا متبادل برقرار رکھنے کا مطالبہ، متعدد کارکن حراست میںناگپور ، 3 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری کی ناگپور میں واقع رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے والے بھارتی یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے متعدد کارکنوں کو ناگپور پولیس نے حراست میں لے لیا۔یہ احتجاج مقامی یوتھ کانگریس رہنما مہول اڈوانی کی قیادت میں کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ والے ای ٹوئنٹی پٹرول کو لازمی بنانے کی پالیسی کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ مہول اڈوانی نے کہا کہ عوام پرای ٹوئنٹی ایندھن مسلط کیا جا رہا ہے، جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ احتجاج آئندہ بھی جاری رہے گا۔
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ای ٹوئنٹی پٹرول سے گاڑیوں کے انجن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مائلیج بھی کم ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق خصوصاً پرانی گاڑیوں کے لیے یہ ایندھن زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یوتھ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ایتھنول ملاوٹ والے پٹرول کے ساتھ صارفین کو ایتھنول سے پاک عام پٹرول خریدنے کا اختیار بھی برقرار رکھا جائے۔دوسری جانب مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مرکزی حکومت نے اس پالیسی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایتھنول ملاوٹ سے خام تیل کی درآمد پر انحصار اور درآمدی اخراجات میں کمی آتی ہے، کاربن کے اخراج میں کمی ہوتی ہے اور مقامی کسانوں کو براہ راست معاشی فائدہ پہنچتا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق ای ٹوئنٹی ایندھن سے متعلق پھیلائے جانے والے بعض دعوے غیر سائنسی اور گمراہ کن ہیں۔
ادھر اس احتجاج کے پس منظر میں ناگپور سائبر پولیس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔ بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت متعدد سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ای ٹوئنٹی پالیسی کے بارے میں غلط معلومات پھیلا کر مرکزی وزیر نتن گڈکری کو نشانہ بنایا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے