
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔
پارلیمنٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اسٹینڈنگکمیٹی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی ویڈیو فیس بک سے ہٹائے جانے کے معاملے میں میٹا کے حکام سے وضاحت طلب کی۔ کمیٹی کے کئی ارکان نے صرف معافی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری طے کرنے اور قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی کی ویڈیو ہٹائے جانے کا معاملہ نمایاں طور پر زیر بحث آیا۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے اس واقعے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے میٹا کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔
میٹا کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ویڈیو تکنیکی خرابی کے باعث ہٹ گئی تھی اور کمپنی نے اس پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔
تاہم کمیٹی کے بیشتر ارکان نے کہا کہ صرف معافی مانگ لینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے اس کوتاہی کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ارکان نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی دوبارہ تکرار نہیں ہونی چاہیے اور اس کے لیے مو¿ثر جوابدہی کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ اجلاس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جوابدہی اور ان کے مواد کی نگرانی کے نظام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمیٹی نے میٹا سے پورے واقعے کی تفصیلی وضاحت طلب کی اور متنازع و قابل اعتراض مواد کے خلاف اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ 28 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری فیس بک صفحے پر شیئر کیا گیا ایک ویڈیو کچھ وقت کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ اس دوران صارفین کو یہ پیغام نظر آ رہا تھا کہ ویڈیو بھارت میں ”قانونی درخواست“ کی وجہ سے دستیاب نہیں ہے۔ بعد ازاں میٹا نے ویڈیو بحال کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ واقعہ اندرونی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی سرکاری درخواست یا کمپنی کی مواد سے متعلق پالیسی کے تحت کی گئی کارروائی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ