این سی پی آئی نے پارٹی میں اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا، تمام 20 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت کا دعویٰ
کولکاتا، 30 جولائی (ہ س)۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ترنمول کانگریس چھوڑ کر نیشنل سٹیزنز پارٹی(این سی پی آئی) میں شامل ہونے والے 20 ارکانِ پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو این سی پی آئی نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکمراں
این سی پی آئی نے پارٹی میں اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا، تمام 20 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت کا دعویٰ


کولکاتا، 30 جولائی (ہ س)۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ترنمول کانگریس چھوڑ کر نیشنل سٹیزنز پارٹی(این سی پی آئی) میں شامل ہونے والے 20 ارکانِ پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو این سی پی آئی نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے) کی حمایت کرنے والے ان ارکان کے بارے میں گزشتہ ہفتے اس وقت چہ مگوئیاں تیز ہو گئی تھیں، جب این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں این سی پی آئی کے تین ارکان شریک نہیں ہوئے تھے۔

تاہم این سی پی آئی کی چیف وہِپ کاکولی گھوش دستیدار نے واضح کیا کہ پارٹی کے تمام 20 ارکانِ پارلیمنٹ متحد ہیں اور کسی بھی رکن کے پارٹی چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پیر کو دہلی روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کاکولی گھوش دستیدار نے بتایا کہ دارالحکومت میں این سی پی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ انہوں نے پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا، ’ہماری ایک میٹنگ ہونے والی ہے۔ ہم تمام 20 ارکان ہمیشہ ایک ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دو دیگر ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے کے ایک بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی بحث شروع ہوئی تھی۔ سوگت رائے نے کہا تھا، ’ہمارا ان سب کے ساتھ پہلے بھی رابطہ تھا اور اب بھی ہے۔ ترنمول کانگریس سے ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے پارٹی چھوڑی، یہ درست ہے، لیکن ترنمول سے این سی پی آئی اور پھر این ڈی اے میں جانا بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آ رہا، جن میں مسلم ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔‘

گزشتہ منگل کو این سی پی آئی کے تین ارکانِ پارلیمنٹ ابو طاہر، خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان کے این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں غیر حاضر رہنے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں مزید زور پکڑ گئی تھیں۔ تاہم ان تینوں ارکان نے اب تک اس معاملے پر میڈیا کے سامنے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande