مرکزی حکومت نے گاڑیوں میں وی ٹو وی مواصلاتی نظام نافذ کرنے کا مسودہ جاری کیا
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ سڑکوں پر حفاظت کو مزید مؤثر بنانے اور حادثات کی روک تھام کے مقصد سے مرکزی حکومت نے موٹر گاڑیوں میں وہیکل ٹو وہیکل (وی ٹو وی) مواصلاتی نظام کو مرحلہ وار لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ سڑک نقل و حمل و
مرکزی حکومت نے گاڑیوں میں وی ٹو وی مواصلاتی نظام نافذ کرنے کا مسودہ جاری کیا


نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ سڑکوں پر حفاظت کو مزید مؤثر بنانے اور حادثات کی روک تھام کے مقصد سے مرکزی حکومت نے موٹر گاڑیوں میں وہیکل ٹو وہیکل (وی ٹو وی) مواصلاتی نظام کو مرحلہ وار لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہ نے سنٹرل موٹر وہیکل رولز، 1989 میں ترمیم کے لیے مسودہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے عوام سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔

وزارت نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ مجوزہ ضوابط کے مطابق یکم اکتوبر 2027 سے تیار ہونے والی ایم، ایل اور این زمرے کی ان گاڑیوں پر اے آئی ایس230- معیار نافذ ہوگا جن میں وی ٹو وی مواصلاتی نظام نصب ہوگا۔ اس کے بعد یکم اکتوبر 2028 سے تیار ہونے والی تمام ایل، ایم اوراین زمرے کی گاڑیوں میں اے آئی ایس230- معیار کے مطابق وی ٹو وی نظام کی تنصیب لازمی ہوگی۔

وزارت کے مطابق اس جدید نظام کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب چلنے والی گاڑیاں حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں اپنی رفتار، مقام، سمت اور رفتار میں تبدیلی (ایکسیلیریشن) سے متعلق معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں گی۔ اس سے اچانک بریک لگانے، آگے تصادم کے خدشے، غیر محفوظ لین تبدیلی یا ایمرجنسی گاڑی کی آمد جیسی صورتوں میں ڈرائیور یا گاڑی کے خودکار نظام کو بروقت انتباہ مل سکے گا۔

وزارت نے واضح کیا کہ موجودہ حفاظتی نظام زیادہ تر گاڑی میں نصب سینسرز اور ڈرائیور کے ردعمل پر منحصر ہوتے ہیں، جبکہ وی ٹو وی ٹیکنالوجی ڈرائیور کی نظر سے اوجھل صورتحال کے بارے میں بھی پیشگی معلومات فراہم کرے گی۔ اس سے ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز(اے ڈی اے ایس)، حادثات کی روک تھام، کنیکٹڈ موبیلیٹی اور مستقبل کے ذہین ٹرانسپورٹ نظام کو مزید تقویت ملے گی۔

بیان کے مطابق اے آئی230- معیار میں ریڈیو کارکردگی، فریکوئنسی کا استحکام، ریسیور کی حساسیت، گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (جی این ایس ایس)، بجلی کی فراہمی، برقی مقناطیسی مطابقت، سائبر سکیورٹی اور سڑکوں کی حفاظت سے متعلق مختلف تکنیکی معیارات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ معیار 5.875 گیگا ہرٹز سے 5.925 گیگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ میں سیلولر وہیکل ٹو ایوری تھنگ(سی۔وی ٹو ایکس) ٹیکنالوجی پر مبنی آن بورڈ یونٹس کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت ہنگامی بریک کی وارننگ، آگے تصادم کے خدشے کی اطلاع، مخالف سمت سے آنے والی گاڑی کی تنبیہ اور ایمرجنسی گاڑیوں کی پیشگی اطلاع جیسی حفاظتی سہولتیں مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔وزارت نے بتایا کہ محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن نے 10 جون 2026 کی نوٹیفکیشن کے ذریعے 5.875 سے 5.925 گیگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ کے استعمال کو لائسنس کی شرط سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ وی ٹو وی نظام کی تیاری اور نفاذ کے لیے قائم ٹاسک فورس نے بھی سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے 5.9 گیگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ کے استعمال کی سفارش کی تھی۔وزارت نے کہا کہ مسودہ قواعد پر آئندہ 30 دن کے اندر موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande