
نئی دہلی، 03 اگست (ہ س)۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے گیارہویں دن پیر کو رام مندر چڑھاوا تنازع اور نیٹ (این ای ای ٹی) سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان لوک سبھا میں انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ بل، 2026 اور بینکرز بکس ایویڈنس بل، 2026 پیش کیے گئے۔ تاہم اپوزیشن کی مسلسل نعرہ بازی اور ایوان کے وسط (ویل) میں آکر احتجاج کے باعث کارروائی معمول کے مطابق نہ چل سکی اور اسے دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
دوپہر 12 بجے قائم مقام اسپیکر کرشنا پرساد تینیٹی نے کارروائی دوبارہ شروع کرائی، لیکن اپوزیشن ارکان کی مسلسل نعرہ بازی اور ویل میں آکر احتجاج کرنے کے باعث ایوان کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ آخرکار کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
کارروائی شروع ہوتے ہی قائم مقام اسپیکر نے ایوان کو مطلع کیا کہ لوک سبھا کے اسپیکر نے اراکین کی جانب سے پیش کیے گئے کسی بھی التوا کی تحریک کو منظور نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے وقفہ سوالات سے متعلق سوالات کے جوابات ایوان میں پیش کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کے وزراء کو دعوت دی۔
سوالیہ وقفہ کے دوران وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت، وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری جینت چودھری، وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ، وزیر مملکت برائے محنت و روزگار شوبھا کرندلاجے، وزیر مملکت برائے نوجوانوں کے امور و کھیل رکشا نکھل کھڈسے اور وزیر مملکت برائے کارپوریٹ امور ہرش ملہوترا نے اپنے اپنے محکموں سے متعلق سوالات کے جوابات ایوان میں پیش کیے۔
اس کے بعد مدھیہ پردیش کے مندسور سے بی جے پی کے رکن سدھیر گپتا نے کارپوریٹ قانون (ترمیمی) بل، 2026 پر تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی رپورٹ کے ہندی اور انگریزی نسخے اور اس کی وجوہات ایوان میں پیش کیں۔
اس کے بعد وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے شماریات و پروگرامنگ راو¿ اندرجیت سنگھ نے انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ بل، 2026 لوک سبھا میں پیش کیا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرہ بازی کرتے رہے اور کئی ارکان ویل میں آ گئے۔ قائم مقام اسپیکر اپوزیشن سے مسلسل اپیل کرتے رہے کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور ایوان کی کارروائی چلنے دیں۔
اس کے بعد قائم مقام اسپیکر نے ایوان کو بتایا کہ بینکرز بکس ایویڈنس بل، 2026 کی مخالفت میں لوک سبھا کے ضابطہ 72 کے تحت مہاراشٹر کے نندوربار سے رکن پارلیمان ایڈووکیٹ گوال کاگڑا پاڑوی، تمل ناڈو کے ویلور سے ڈی ایم کتھر آنند، مغربی بنگال کے جے نگر سے پرتیما منڈل، دم دم سے پروفیسر سوگت رائے، مہاراشٹر کے سانگلی سے وشال دادا پرکاش باپو پاٹل، چنڈی گڑھ سے منیش تیواری اور چنئی جنوبی سے ڈاکٹر ٹی سمتی عرف تمیڑاچی تھنگاپانڈین نے ”نوٹس ٹو اپوز“ جمع کرایا ہے۔
قائم مقام اسپیکر نے ان نوٹسوں پر ایوان کی رائے طلب کی، لیکن ایوان نے انہیں مسترد کر دیا، جس کے بعد بل کو آئندہ کارروائی کے لیے پیش کر دیا گیا۔
بعد ازاں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بینکرز بکس ایویڈنس بل، 2026 ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد بینکوں کے ریکارڈ سے متعلق ثبوتی قانون کو جدید ڈیجیٹل بینکاری نظام کے مطابق بنانا اور اس سے متعلق دفعات کو تازہ ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
بل پر بحث شروع ہونے سے قبل ڈی ایم کتھر آنند اور منیش تیواری نے دوبارہ اس کی مخالفت کی، تاہم ان کے ”نوٹس ٹو اپوز“ کو بھی ایوان نے مسترد کر دیا۔
پورے وقت اپوزیشن ارکان رام مندر چندہ تنازع اور نیٹ سوالیہ پرچہ لیک کے معاملے پر نعرے لگاتے رہے۔ قائم مقام اسپیکر کرشنا پرساد تینیٹی مسلسل اراکین سے اپیل کرتے رہے کہ ایوان کی کارروائی کو بحال ہونے دیں، لیکن ہنگامہ ختم نہ ہونے اور نظم و ضبط بحال نہ ہونے کے باعث انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ ملتوی کر دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ