
نئی دہلی، 03 اگست (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے بی جے پی رہنماو¿ں انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ پر مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کی رہنما برندا کرات کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم صادر کیا۔
برندا کرات نے سپریم کورٹ کے 29 اپریل کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ 29 اپریل کو سپریم کورٹ نے ان کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ انوراگ ٹھاکر کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری سرکاری منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے برندا کرات کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ درخواست گزار نے قانون میں دستیاب دوسرے متبادل قانونی راستے سے رجوع نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف دائر ہ¿ اختیار کے سوال پر غور کیا تھا۔
26 اگست 2020 کو راو¿ز ایونیو کورٹ نے بھی برندا کرات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت کی پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی، اس لیے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
ٹرائل کورٹ نے انیل کمار و دیگر بنام ایم کے ایپا و دیگر مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سرکاری ملازم کے خلاف پیشگی منظوری کے بغیر تحقیقات کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ