
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ کاویری آبی تنازعہ کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے کہا ہے کہ کاویری آبی انتظامیہ اتھارٹی کے احکامات کے باوجود کرناٹک کی جانب سے مقررہ مقدار میں پانی نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔
تمل ناڈو حکومت کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ کرناٹک کے آبی ذخائر میں پانی کی مناسب مقدار دستیاب ہونے کے باوجود اسے اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر پانی فراہم کرانے کی درخواست کی ہے۔
28 جولائی کو کاویری آبی ضابطہ کمیٹی کی میٹنگ میں موسم سے متعلق حالات اور دیگر صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ کے بعد کمیٹی نے کرناٹک کو ہدایت دی کہ وہ کرشنا راجا ساگر اور کَبِنی آبی ذخائر سے پانی چھوڑ کر 29 جولائی سے 12 اگست 2026 کے درمیان بلی گنڈلو میں 3,500 کیوسک پانی کی دستیابی یقینی بنائے۔ اس فیصلے کو 30 جولائی کو منعقدہ کاویری آبی انتظامیہ اتھارٹی کی 54ویں ہنگامی میٹنگ میں بھی منظوری دے دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد