آبنائے ہرمز کھل گئی، ایران کا دباؤ کمزور پڑ گیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، 29 اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بحری آمد و رفت کے لیے کھلی ہے اور ایران کی جانب سے جہازوں کو دھمکانے یا اس اہم بحری راستے کو استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ٹرمپ نے ای
آبنائے ہرمز کھل گئی، ایران کا دباؤ کمزور پڑ گیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ


واشنگٹن، 29 اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بحری آمد و رفت کے لیے کھلی ہے اور ایران کی جانب سے جہازوں کو دھمکانے یا اس اہم بحری راستے کو استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ٹرمپ نے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز ’’کھلی‘‘ ہے اور ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل محدود ہو چکا ہے، کیونکہ تہران مزید امریکی حملوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کو ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں اضافی دباؤ حاصل ہو سکتا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں بحری آمد و رفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت ایران کے اہم ترین دباؤ کے ذرائع میں شامل تھی۔ تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد واشنگٹن کا کہنا ہے کہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔جنگ کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ تاہم جہازوں پر حملوں اور سمندری بارودی سرنگوں کے خطرے کے باعث بحری آمد و رفت متاثر ہوئی، جس کے بعد خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران نے بین الاقوامی بحری راستے میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کی تھیں۔ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی کوششوں میں تعطل کے بعد امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے یک طرفہ کارروائیاں شروع کیں۔امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا، فضائی دفاع مضبوط کرنا، ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والی بمباری شامل تھی۔اس کے علاوہ امریکی افواج نے آبنائے میں بچھائی گئی مبینہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے بھی ایک بڑے آپریشن کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ تسلیم شدہ بین الاقوامی بحری راستوں کو بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مرکزی راستے میں 200 سے زائد مشتبہ اشیا کی جانچ کی گئی، جن میں سے 11 کو حقیقی بارودی سرنگیں قرار دیا گیا۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بہتر سکیورٹی صورتحال کے اثرات بحری تجارت پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جنوبی راستے سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد بعض راتوں میں 20 سے 30 تک پہنچ گئی ہے۔ ان ٹینکروں کے ذریعے روزانہ تقریباً 90 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

تاہم یہ حجم جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ امریکی اندازوں کے مطابق گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تقریباً دو فیصد جہاز متاثر ہوئے۔ دوسری جانب تیل کے ماہرین اور ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ حقیقی بحری آمد و رفت امریکی حکام کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کم ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا ہدف ہے کہ ستمبر کے وسط تک آبنائے کے مرکزی بحری راستے کو مزید وسعت دی جائے، تاکہ ہر رات کم از کم 50 جہاز وہاں سے گزر سکیں اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے 60 سے 70 فیصد تک بحال ہو جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھ رہی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق تہران نے حالیہ دنوں میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں دلچسپی کا اشارہ دیا ہے۔

ایران میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان کے فوجی سربراہ کے علاوہ عمان اور قطر کے وزرائے خارجہ کے دورے بھی شامل ہیں، جنہیں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارت کاری کی بحالی ’’ناممکن نہیں‘‘، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ’’دباؤ کام نہیں کرتا‘‘۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال ایرانی حکام سے ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ان کے مطابق تہران خود کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔امریکی انتظامیہ کو توقع ہے کہ بحری دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں ایران کے اثر و رسوخ میں کمی کے باعث تہران مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے ان امریکی دعوؤں اور آبنائے پر طاقت کے توازن سے متعلق واشنگٹن کے مؤقف پر اختلاف برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande