
بھوپال، 29 اگست(ہ س)۔ سال 2018 میں شوٹنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والی بھارتی رائفل شوٹر آشی چوکسے اپنے دوسرے ایشیائی کھیلوں کے لیے تیار ہیں۔ 24 سالہ آشی نے گزشتہ ایشیائی کھیلوں میں تین تمغے جیتے تھے اور اب جاپان کے آئیچی-ناگویا میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں گزشتہ کارکردگی کو طلائی تمغے میں تبدیل کرنے کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔آشی نے 2022 کے ایشیائی کھیلوں میں، جو 2023 میں منعقد ہوئے تھے، خواتین کی 10 میٹر ایئر رائفل ٹیم اور خواتین کی 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن ٹیم مقابلوں میں چاندی کے تمغے جیتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کی 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن انفرادی مقابلے میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا تھا۔
گزشتہ ایشیائی کھیلوں کا تجربہ آئندہ مقابلے میں آشی کے لیے کافی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں اس سطح کے مقابلے میں کارکردگی دکھانے کی بہتر سمجھ اور اعتماد حاصل ہے۔آشی نے کہا، ’’ایشیائی کھیل اولمپک کے بعد سب سے بڑے کثیر کھیل مقابلوں میں سے ایک ہیں اور میں پہلے بھی وہاں حصہ لے چکی ہوں۔ میں نے اس پلیٹ فارم پر کارکردگی دکھائی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وہاں کیا کرنا ہوتا ہے۔ تین تمغے جیتنے کے بعد اب میرے پاس اس سطح پر کھیلنے کا اچھا تجربہ ہے۔ اسی لیے اس بار میں جاپان واضح سوچ اور ہدف کے ساتھ جا رہی ہوں۔‘‘
ایشیائی کھیلوں کی تیاری کے لیے بھارتی شوٹنگ ٹیم نے بھوپال میں کئی سخت تربیتی کیمپ منعقد کیے۔ ان کیمپوں میں مقابلوں اور فائنل کی مشق کے ساتھ کھلاڑیوں کی برداشت اور مستقل مزاجی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔آشی نے بتایا کہ تیاری کے دوران انہوں نے کافی محنت کی۔ 10 روزہ کیمپ میں کھلاڑیوں نے تین سے چار مقابلے اور اتنے ہی فائنل کھیلے۔ 60 شاٹس کا مقابلہ بھی کافی مشکل ہوتا ہے، جبکہ کھلاڑیوں نے 120 شاٹس کا مقابلہ بھی کھیلا، جو کسی باقاعدہ مقابلے کا حصہ نہیں تھا بلکہ طویل وقت تک برداشت اور توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے کرایا گیا۔
بھارتی شوٹر کھیلوں کے ماہرینِ نفسیات کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں اور بایوفیڈبیک تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے کھلاڑیوں کی سانس لینے کے عمل اور نشانہ لگاتے وقت جسم کے ردعمل کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔آشی کے مطابق، نفسیاتی تکنیک کی مدد سے نشانہ لگاتے وقت سانس اور جسم کے دیگر عوامل پر نظر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تکنیک کو کئی بار آزمایا گیا ہے اور اس سے کھلاڑیوں کو خود کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ شوٹنگ میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ ’’ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے اور کس طرح نشانہ لگانا ہے، لیکن کچھ چھوٹی چیزیں نظرانداز ہوجاتی ہیں۔ اگر ہم انہیں درست طریقے سے اور تقریباً مکمل درستگی کے ساتھ کرلیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہم ناقابلِ شکست ہوں گے۔‘‘
گزشتہ ایشیائی کھیلوں میں مقابلے کے دباؤ کا تجربہ حاصل کرچکی آشی اس بار زیادہ اعتماد اور تحمل کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی ہیں۔ ان کا ہدف واضح ہے—گزشتہ بار حاصل کیے گئے تمغوں کا رنگ تبدیل کرکے طلائی تمغہ جیتنا۔انہوں نے کہا، ’’میں اسے طلائی تمغے میں تبدیل کرنے کے لیے پرجوش اور پوری طرح وقف ہوں۔ میں یہ بہت، بہت زیادہ چاہتی ہوں۔‘‘
آشی چین کی مضبوط شوٹنگ ٹیم کے خلاف مقابلے کو لے کر بھی پرجوش ہیں۔ گزشتہ ایشیائی کھیلوں میں خواتین کی 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن مقابلے میں بھارت کی سِفٹ کور سَمرا نے طلائی اور آشی نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا، جبکہ چین کی شوٹر نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔آشی نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’میں چین کی شوٹنگ ٹیم کے خلاف مقابلے کو لے کر کافی پرجوش ہوں۔ وہ بہت مضبوط ٹیم ہے۔ 2023 میں ہم نے طلائی اور کانسہ جیتا تھا جبکہ انہیں اپنے ہی گھر میں چاندی کا تمغہ ملا تھا۔ ممکن ہے کہ وہ اب بھی اسے یاد کر رہے ہوں اور بدلہ لینا چاہتے ہوں۔ وہ مضبوط ٹیم ہیں، لیکن میں ان کے خلاف مقابلے کو لے کر واقعی پرجوش ہوں۔‘‘
اسکول کے ایک کیمپ میں اتفاقاً پہلی مرتبہ رائفل ہاتھ میں لینے سے لے کر بین الاقوامی سطح کی شوٹر بننے تک آشی چوکسے کا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ این سی سی کیمپ میں شوٹنگ آزمائی تھی اور ابتدائی کارکردگی نے انہیں اس کھیل کو بطور کیریئر اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد ان کا انتخاب ریاستی شوٹنگ اکیڈمی میں ہوا۔
اب اپنے دوسرے ایشیائی کھیلوں میں آشی تجربے، سخت تیاری اور اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ ان کا واحد مقصد گزشتہ ایشیائی کھیلوں میں حاصل کیے گئے تمغے کا رنگ تبدیل کرکے اس بار طلائی تمغہ حاصل کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan