
جنوبی دیناج پور، 29 اگست (ہ س)۔ ضلع کے کمار گنج میں جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر صدیق اللہ چودھری نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے معاملہ پر مرکز کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ ہفتہ کو ساہاپوکور علاقے میں واقع ایک مدرسہ-مسجد احاطے میں جمعیت کی نمائندہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے عمل میں جان بوجھ کر اہل مسلمانوں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ معاملات کو ٹریبونل میں زیر التوا رکھا جا رہا ہے۔
صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ اہل مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علمائے ہند ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے لوگوں سے ایس آئی آر کے عمل کے حوالے سے بیدار رہنے اور ہر مرحلے پر قانونی طریقے سے اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کی اپیل کی۔
حقوق کی لڑائی کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’اگر سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی ہوگی۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر کولکاتا میں مسلسل تین دن تک دھرنا مظاہرہ کیا جائے گا۔ انتظامیہ یا پولیس سے اجازت نہ ملنے کی صورت میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات بھی انہوں نے کہی۔
میٹنگ میں ایس آئی آر، مسلمانوں کے شہری حقوق اور وقف املاک کے تحفظ سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت قاری زین العابدین نے کی۔ قانونی پہلوؤں اور امداد کے طریقہ کار کی وضاحت کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کے دو وکلا بھی موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد