سیف علی خان پر حملے کے ملزم نے عدالت سے جرم قبول کرنے کی اجازت مانگی
ممبئی ، 29 اگست (ہ س): بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کے معاملے میں مرکزی ملزم نے ممبئی کی سیشن عدالت میں درخواست داخل کرکے اپنا جرم قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ملزم نے عدالت سے جرم قبول کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ معاملے میں نرمی بر
Saif Ali Khan Attack CASE


ممبئی ، 29 اگست (ہ س): بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کے معاملے میں مرکزی ملزم نے ممبئی کی سیشن عدالت میں درخواست داخل کرکے اپنا جرم قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ملزم نے عدالت سے جرم قبول کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ معاملے میں نرمی برتنے کی بھی درخواست کی ہے۔ عدالت نے اس درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے ہفتہ کے روز استغاثہ سے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 11 ستمبر کو ہوگی۔

سیف علی خان پر حملے کے معاملے میں تلوجہ سینٹرل جیل میں بند ملزم نے اپنے وکیل وپل دشنگ کے ذریعے یہ درخواست داخل کی ہے۔ وکیل وپل دشنگ نے بتایا کہ ملزم خود اپنا جرم قبول کرنا چاہتا ہے۔ سیف علی خان پر حملے کے معاملے میں ملزم کی شناخت محمد شریف الاسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ اس پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کا الزام ہے۔ پولیس نے 16 جنوری 2025 کو باندرہ میں واقع سیف علی خان کے گھر میں مبینہ حملے کے دو دن بعد اسے گرفتار کیا تھا۔

گرفتاری کے بعد سے محمد شریف الاسلام عدالتی حراست میں ہے۔ اس پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کے تحت لوٹ یا ڈکیتی کے دوران جان لینے یا سنگین چوٹ پہنچانے کی کوشش اور گھر میں زبردستی داخل ہونے سمیت کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ ایکٹ اور فارنرز ایکٹ کے تحت بھارت میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور قیام کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ ان الزامات میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایڈیشنل سیشن جج جی پی دیشمکھ نے ملزم کے خلاف الزامات طے کر دیے ہیں، جس کے بعد اس معاملے میں مقدمے کی سماعت کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ اس سے قبل ملزم نے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کیا تھا۔واضح رہے کہ 16 جنوری 2025 کی رات باندرہ میں واقع سیف علی خان کے 12ویں منزل کے اپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر ایک شخص لوٹ کی نیت سے داخل ہوا تھا۔ اس دوران اداکار پر چاقو سے کئی وار کیے گئے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد سیف علی خان کو فوری طور پر لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی ہنگامی سرجری کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande