
کاٹھمنڈو، 29 اگست (ہ س)۔
نیپال میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سلسلے میں چین پر بروقت نیپال کو خبردار نہ کرنے کے الزامات کے درمیان نیپال میں واقع چینی سفارتخانے نے آج مسلسل تیسرے دن وضاحت جاری کی ہے۔
سفارتخانے نے نیپالی میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارموں پر لگائے جا رہے الزامات کے حوالے سے کہا ہے کہ چینی ماہرین نے دستیاب ٹیکنالوجی کی حدود کے اندر مسلسل نگرانی، جائزہ اور تجزیہ کیا اور اہم معلومات نیپال کے ساتھ بروقت شیئر کیں۔
چینی سفارتخانے کے ترجمان کے بیان کے مطابق، ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کے خطرے والے مقامات انتہائی منتشر ہیں۔ 4,000 سے 5,000 میٹر یا اس سے زیادہ بلندی والے انتہائی سرد علاقوں میں بڑی تعداد میں گلیشیئر جھیلیں اور برف و چٹانوں کے بڑے ذخیرے موجود ہیں۔ ایسے علاقوں میں باقاعدہ زمینی سروے کے ذریعے وسیع پیمانے پر نگرانی کرنا مشکل ہے۔
سفارتخانے نے کہا کہ کھڑی ڈھلوانوں اور وسیع و پیچیدہ جغرافیائی خطے میں انتہائی درستگی کے ساتھ نگرانی کرنا بین الاقوامی سطح پر ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 25 اپریل 2015 کو نیپال میں آنے والے زلزلے نے ہمالیہ کی جنوبی ڈھلوانوں کی چٹانی ساخت کو متاثر کیا تھا، جس سے بلند علاقوں میں چٹانوں کے کھسکنے کا خطرہ اور غیر یقینی صورت حال مزید بڑھ گئی۔
چینی سفارتخانے نے کہا کہ نیپال اور چین کے درمیان سرحد پار آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں مسلسل رابطہ اور تعاون برقرار ہے۔ سفارتخانے کے مطابق 26 اگست کو چین کی موسمیاتی انتظامیہ نے نیپال کے محکمہ آب و ہوا و موسمیات کے ساتھ فوری ورچوئل اجلاس کیا تھا۔ اجلاس میں آفت کی صورت حال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کے ساتھ اعداد و شمار شیئر کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چین نے کہا کہ وہ اب بھی نیپال کے ساتھ آبی اور موسمیاتی معلومات شیئر کر رہا ہے، جس میں بیریئر لیک یعنی قدرتی طور پر بننے والی رکاوٹی جھیل کی نگرانی سے متعلق ڈیٹا بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک مل کر آفات سے نمٹنے اور مستقبل میں ایسی قدرتی آفات کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
چین کی موسمیاتی انتظامیہ نے نیپال کو مازو‘ نامی چینی انٹیلیجنٹ موسمیاتی پیشگی انتباہی نظام کے تحت ابتدائی طور پر موافق بنائی گئی خدمات بھی فراہم کی ہیں۔ سفارتخانے کے مطابق اس سے سرحد پار آفات سے نمٹنے کی دونوں ممالک کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
چینی سفارتخانے نے کہا کہ یہ اقدامات نیپال کی آفات سے بچاو¿ سے متعلق ضروریات کے تئیں چین کی اہمیت اور تعاون کے مخلصانہ رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔ چین نے امید ظاہر کی کہ ان شعبوں میں نیپال اور چین کے درمیان تبادلہ خیال اور تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو بہتر انداز میں یقینی بنایا جا سکے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ