منوج جارنگے نے پھر شروع کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، مراٹھا سماج کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دینے کا مطالبہ
جالنہ، 29 اگست (ہ س): جالنہ میں مراٹھا سماج کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دینے کے مطالبے کو لے کر منوج جارنگے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انھوں نے آج ہفتہ کے دن سے ضلع جالنہ کے انتر والی سراٹی گاؤں میں بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ انہوں ن
Manoj Jarange Begins Indefinite Hunger Strike


جالنہ، 29 اگست (ہ س): جالنہ میں مراٹھا سماج کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دینے کے مطالبے کو لے کر منوج جارنگے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انھوں نے آج ہفتہ کے دن سے ضلع جالنہ کے انتر والی سراٹی گاؤں میں بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ مراٹھا کارکنوں کے ساتھ ممبئی کا رخ بھی کر سکتے ہیں۔

بھوک ہڑتال شروع کرنے سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے منوج جارنگے نے مطالبہ کیا کہ ذات کی تصدیق کرنے والی کمیٹی کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کی کسی دوسری ریاست میں اس طرح کی کمیٹی موجود نہیں ہے، پھر مہاراشٹر میں اس کی ضرورت کیوں ہے۔ جارنگے نے کہا کہ وہ حکومت کے نمائندہ وفد کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دیویندر فڑنویس مراٹھا سماج سے ناراضگی رکھتے ہیں، جبکہ ایکناتھ شندے سماجی انصاف کے وزیر سنجے شرساٹ کے ذریعے خفیہ طور پر حمایت کر رہے ہیں۔ جارنگے نے کہا کہ اگر ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے تو وہ ورشا بنگلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی ٹیم بات چیت کے لیے آتی ہے تو وہ اس سے بات کریں گے، لیکن یہ ان کی آخری تحریک ہے۔ ان کے مطابق جب تک تمام مسائل کا حل نہیں نکلتا، وہ اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

منوج جارنگے نے مراٹھا سماج کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کی طرف آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ درست دستاویزی ثبوت موجود ہونے کے باوجود بعض دعوے مسترد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت دستاویزی ثبوتوں میں مطابقت ہونے کے باوجود انہیں مسترد کرکے مراٹھا سماج کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ذات کی تصدیق کرنے والی کمیٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جارنگے نے واضح کیا کہ وہ انتر والی سراٹی میں اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور جب تک ان کے اٹھائے گئے تمام مسائل حل نہیں ہوتے، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر منوج جارنگے کی یہ 11 ویں تحریک ہے۔ اس سے قبل وہ ممبئی کے آزاد میدان میں بھی تحریک کر چکے ہیں، جس کے دوران ممبئی میں شہری سطح پر مسائل پیدا ہوئے تھے۔ اب جارنگے کی جانب سے دوبارہ ممبئی میں تحریک کرنے کی وارننگ کے بعد ریاستی حکومت بھی محتاط ہو گئی ہے۔

دریں اثنا ریاستی حکومت کی جانب سے صنعت کے وزیر ادئے سامنت نے کہا ہے کہ حکومت منوج جارنگے کے مطالبات پورے کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے او بی سی سماج سے بھی کہا کہ وہ یہ بات سمجھ لے کہ حکومت کسی بھی قیمت پر ان کے حقوق میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ادئے سامنت نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ منوج جارنگے اپنی تحریک ملتوی کر دیں۔ ان کے مطابق حکومت جارنگے کے مطالبات کے مطابق مراٹھا سماج کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande