
نئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ معاملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ اسپیشل جج پرشانت کمار نے معاملے کی اگلی سماعت 9 ستمبر کو کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے 13 ملزمان کے خلاف داخل چارج شیٹ کا نوٹس لینے کا حکم دیا ہے۔
پہلے یہ معاملہ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ بعد میں این آئی اے کورٹ راؤز ایونیو میں قائم ہونے کے بعد اب اس معاملے کی سماعت راؤز ایونیو کورٹ کر رہی ہے۔
اس سے قبل این آئی اے نے 6 جولائی کو لال قلعہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے 11 افراد سے متعلق فارنسک رپورٹ داخل کی تھی۔ 27 جون کو این آئی اے نے ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں تین نئے افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ضمنی چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اس معاملے میں کل 13 ملزمان ہو گئے۔
ضمنی چارج شیٹ میں این آئی اے نے ضمیر احمد اہنگر، طفیل احمد بھٹ اور مظفر احمد عرف فراز عرف ظفر کو ملزم بنایا ہے۔ تینوں جموں کے رہنے والے ہیں۔اس معاملے میں این آئی اے نے پہلی چارج شیٹ 14 مئی کو داخل کی تھی۔ پہلی چارج شیٹ میں 10 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق اس دھماکے میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تقریباً 7500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں این آئی اے نے بم دھماکہ کرنے والے عمر ان نبی (متوفی) کو بھی ملزم بنایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ