دبئی میں مقیم سرغنہ کا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاب، تین گرفتار
کانپور، 29 اگست (ہ س)۔ فضل گنج تھانہ علاقہ میں پولیس نے ہفتہ کے روز سائبر فراڈ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کے ناموں پر بینک اکاونٹس کھولتا تھا اور انہیں
CYBER-FRAUD-NETWORK-OPERATED-


کانپور، 29 اگست (ہ س)۔ فضل گنج تھانہ علاقہ میں پولیس نے ہفتہ کے روز سائبر فراڈ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کے ناموں پر بینک اکاونٹس کھولتا تھا اور انہیں بینک کھاتوں کے ذریعہ ملک -بیرون ملک میں سائبر فراڈ کی رقم کی لین دین کی جاتی تھی۔ اس کے ذریعہ اب تک 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی دھوکہ دہی انجام دیئے جانے کا خدشہ ہے۔

کانپور سٹی پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے بتایا کہ دادا نگر ڈھال کے قریب فضل گنج پولیس نے مخبر کی اطلاع اور سرویلانس کی مدد سے سوفٹ کار سے کپل ورما عرف کپل دیو عرف شنٹی، ابھے پرتاپ اور روہت سنگھ عرف رودر پرتاپ سنگھ کو گرفتار کیا۔ تینوں کانپور کے رہنے والے ہیں۔

پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمین غریب اور سیدے - سادے لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کے آدھار کارڈ، پین کارڈ اور تصاویر لے لیتے تھے۔ ان کے نام پر کھاتے کھول کر اے ٹی ایم، آن لائن بینکنگ کی معلومات اور سم اپنے قبضے میں لے لیتے تھے۔ بچت کھاتہ فراہم کرنے کے لیے 40ہزار روپے اور فرضی فرم کے نام پر کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر 80 ہزار روپے ملتے تھے۔ یہ معلومات بھی سامنے آئیں کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے کیے جانے والے فراڈ پر انہیں 20 سے 40 فیصد کمیشن ملتا تھا۔

ملزمین اکاؤنٹ ہولڈر کے موبائل نمبر کو اپنے نمبر سے بدل دیتے تے، جس سے اوٹی پی ان کے پاس آتا تھا۔اس کے بعد فون پے، گوگل پے، پے ٹی ایم اور دیگر یو پی آئی کے ذریعے رقم کا لین دین کیا جاتا تھا۔ ایئرٹیل پیمنٹ بینک کے بینک اور مرچنٹ کھاتوں کے استعمال کے بارے میں بھی معلومات موصول ہوئی ہیں۔ تقریباً 23 بینکوں سے منسلک کھاتوں میں لین دین کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ کچھ بینک افسران اور ملازمین کی ممکنہ ملی بھگت کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق گینگ کا سرغنہ سلطان مرزا دبئی میں رہ کر نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ کانپور میں امت سنگھ عرف جگدیش، لکھنؤ میں راہل، آگرہ میں کے پی اور اناو میں آشیش سمیت سات سے آٹھ سے دیگر کی تلاش جاری ہے۔

شاطروں کے پاس سے تین لیپ ٹاپ، 11 موبائل فون، چار پی او ایس مشین، 85 اے ٹی ایم/کریڈٹ کارڈ، 37 سم کارڈ، 15 چیک بک، 18 پاس بک، چار رجسٹر، آدھار کارڈ کی دو فوٹو کاپیاں، چار سیل، ایک پین کارڈ، سوئفٹ کار، یو پی آئی کیو آر کوڈ، پرائیویٹ فرموں کی26 درخواستیں اور 1300روپے نقد برآمد کئے گئے ہیں۔ تینوں کو گرفتار کر کے پولیس معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

-------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande