افغانستان میں ڈیڑھ ہزار کلومیٹر لمبی ریلوے لائن بچھانے کی تیاری
کابل، 29 اگست (ہ س)۔ افغانستان کو ریل رابطے، ٹرانزٹ اور علاقائی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے مقصد سے ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ریلوے لائن بچھانے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ یہ لائنیں ترکمانستان سے پاکستان کے بلوچستان تک اور ملک کے جنوبی حصے میں قن
فائل فوٹو


کابل، 29 اگست (ہ س)۔ افغانستان کو ریل رابطے، ٹرانزٹ اور علاقائی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے مقصد سے ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ریلوے لائن بچھانے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ یہ لائنیں ترکمانستان سے پاکستان کے بلوچستان تک اور ملک کے جنوبی حصے میں قندھار سے دارالحکومت کابل تک کنیکٹیویٹی کو مستحکم بنائیں گی۔

افغانستان کی نیوز ایجنسی ’طلوع نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغان حکومت کی وزارت تعمیرات عامہ کے تحت، ملک کے ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کی کوششوں کے حصے کے طور پر افغانستان کے پانچ اہم راستوں پر 1,537 کلومیٹر ریلوے لائنوں کے لیے سروے اور ڈیزائن کا کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ریل رابطے، ٹرانزٹ اور علاقائی مرکز کے طور پر افغانستان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم، میڈیا رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ افغانستان میں ریلوے لائن بچھانے کے سروے اور ڈیزائن کے کام میں کس ملک سے مدد لی جا رہی ہے۔

وزارت تعمیرات عامہ کے ترجمان محمد اشرف حق شناس کے مطابق، ان منصوبوں کی ملکی فنڈنگ کے علاوہ، ریلوے لائنوں کی تعمیر کے لیے مالی وسائل اکٹھا کرنے کی غرض سے کمرشل بینکوں، متعدد ممالک اور دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

وزارت کے ترجمان نے کہا، ’’وزارت اس وقت تورغنڈی-ہرات، ہرات-قندھار، قندھار-اسپن بولدک، کابل-قندھار اور اندخوئی-شبرغان راستوں پر 1,537 کلومیٹر ریلوے لائنوں کے لیے سروے اور ڈیزائن کا کام کر رہی ہے۔‘‘

ریلوے نیٹ ورک کے پھیلاو سے لاجسٹک اخراجات کم ہو سکتے ہیں، تجارت اور ٹرانزٹ کو فروغ مل سکتا ہے اور افغانستان علاقائی منڈیوں سے مزید مربوط ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان مقاصد کا حصول فنڈنگ کی فراہمی، منصوبوں کی تکمیل اور علاقائی تعاون برقرار رکھنے پر منحصر ہوگا۔

معاشی تجزیہ کار حسیب اللہ محب زادہ نے کہا، ’’ٹرانزٹ راستوں، بالخصوص ریلوے کی ترقی معاشی منڈیوں کی وسعت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر افغانستان اور پڑوسی ممالک کے درمیان یہ راستے قائم اور مستحکم ہوتے ہیں، تو وہ معاشی نمو، برآمدات میں اضافے اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور معاشی تجزیہ کار جنت فہیم چکاری نے کہا، ’’ریل کے ذریعے مال برداری اور تجارتی رابطوں کا پھیلاو کم خرچ ہے۔ اگر ہم ملک کے اندر سامان کی ترسیل کے لیے ریلوے نیٹ ورک تیار کر سکیں، تو اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور اشیاء کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘

افغانستان میں فی الحال 400 کلومیٹر فعال ریلوے لائنیں ہیں اور وہ حیرتان، آقینہ، تورغنڈی اور خواف-ہرات راستوں کے ذریعے ازبکستان، ترکمانستان اور ایران سے جڑا ہوا ہے، جن کا استعمال خطے کے ممالک سے آنے جانے والے سامان کی نقل و حمل کے لیے کیا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande