
شیر کے حملے میں ہلاک کسان کے وارث کو سرکاری ملازمت دینے کا مطالبہ
امراوتی، 28 اگست (ہ س)۔ ضلع کے مورشی تعلقہ کے بھامبورا شیوار میں شیر کے حملے میں 55 سالہ کسان چرن داس اِکھے کی موت کے بعد علاقے میں خوف و تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ چرن داس اِکھے کھیت میں کام کرنے کے لیے گئے تھے، اسی دوران شیر نے ان پر اچانک حملہ کردیا۔ اس واقعے کے بعد بھامبورا کے کسانوں اور دیہی باشندوں میں شیر کی دہشت کے باعث تشویش بڑھ گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات، پولیس اور مقامی انتظامیہ کے افسران موقع پر پہنچے۔ افسران نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ضروری کارروائی شروع کردی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی رہنما محترمہ آرتی راجیش وانکھیڑے نے بھی موقع پر پہنچ کر متوفی کسان چرن داس اِکھے کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی۔ محترمہ آرتی وانکھیڑے نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شیر کے حملے میں ہلاک ہونے والے کسان کے خاندان کو حکومت کی جانب سے مناسب مالی اور دیگر امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ متوفی کے کسی وارث کو محکمہ جنگلات میں سرکاری ملازمت دی جائے۔
مقامی انتظامیہ نے اس مطالبے کا نوٹس لیتے ہوئے متوفی کے وارث کو فوری طور پر محکمہ جنگلات میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی مستقبل میں انہیں مستقل ملازمت میں شامل کرنے سے متعلق تجویز حکومت کو بھیجنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دریں اثنا، بھامبورا شیوار میں شیر کی موجودگی کے باعث کسانوں میں خوف کا ماحول برقرار ہے۔ کھیتوں میں کام کے لیے جانے والے شہریوں کی سلامتی کا مسئلہ بھی اہم بن گیا ہے۔ مقامی باشندوں نے شیر کا فوری بندوبست کرنے اور اسے قابو میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ جنگلات سے علاقے میں گشت بڑھانے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے جنگلی جانوروں کی انسانی آبادیوں کی جانب بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور کسانوں کی سلامتی کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے۔ بھامبورا کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متوفی کسان چرن داس اِکھے کے خاندان کو فوری امداد اور انصاف فراہم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محکمہ جنگلات کی جانب سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ شیرنی نے کیا ہے۔ وردھا ضلع میں بھی چند روز قبل ایک شیرنی کے حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ متعلقہ شیرنی کو پکڑنے کی اجازت وردھا محکمہ جنگلات کو مل چکی ہے۔ شیرنی کی تلاش کے لیے بھامبورا اور آس پاس کے دیہات میں 24 گھنٹے گشت شروع کردیا گیا ہے۔ ہر ٹیم میں 10 جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرون کیمروں کی مدد سے بھی شیرنی کی تلاش کی مہم جاری ہے۔ مورشی کے اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ مایور بھائلومے نے بتایا کہ شیرنی کی تلاش کے لیے محکمہ جنگلات کی ٹیمیں مسلسل کارروائی کر رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے