عدالت کے احاطہ میں وکیل بن کر گھوم رہاتھا آٹھویں پاس نوجوان،گرفتار
کوچ بہار، 28 اگست (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ کا وکیلبن کر ماتھابھنگا عدالت کے احاطے میں گھوم رہے آٹھوین پاس نوجوان کو پولیس نے گرفتارکرلیاہے۔اس پر مبینہ طور پر لوگوں کو دھوکہ دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ماتھابھنگا سب ڈویڑنل بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے
وکیل


کوچ بہار، 28 اگست (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ کا وکیلبن کر ماتھابھنگا عدالت کے احاطے میں گھوم رہے آٹھوین پاس نوجوان کو پولیس نے گرفتارکرلیاہے۔اس پر مبینہ طور پر لوگوں کو دھوکہ دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ماتھابھنگا سب ڈویڑنل بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے جمعہ کو مشکوک سرگرمیاں دیکھنے کے بعد ایک نوجوان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی ہے۔

بار ایسوسی ایشن کے مطابق عابد علی گزشتہ چند دنوں سے عدالت کے احاطے میں گھوم رہا تھا اور وکیل بن کر لوگوں سے بات چیت کرتا تھا۔ شک ہونے پر کچھ وکلاءنے اسے فون کیا اور اس سے پوچھ گچھ کی۔ جوابات میں کئی تضادات ملنے کے بعد اس نےبھاگ کرماتھابھنگا پولیس اسٹیشن میں چھپنے کی کوشش کی۔ تاہم وکلا نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ لیا اور بعد میں اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کی تلاشی میں اس کے پاس سے کئی مشکوک شناختی کارڈ اور وزٹنگ کارڈ ملے ہیں۔ وزٹنگ کارڈز میں سے ایک پر بی ایس سی ایل ایل بی اور 'ایڈوکیٹ آف کلکتہ ہائی کورٹ' لکھا ہوا ہے۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ دستاویزات حقیقی ہیں یا جعلی اور انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس کے سامنے عابد علی نے دعوی کیا کہ اس نے صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ گزشتہ پانچ ماہ سے عدالت میں قانون کلرک کے طور پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر وزٹنگ کارڈ پر ہائی کورٹ کے وکیل کا لکھا ہونا غلطی قرار دیا ہے۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ماتھابھنگا بار ایسوسی ایشن کے صدر کوشک بھدرا نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو وکیل ماننے سے پہلے اس کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ کریں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande