
چین کے دباو میں کسی بھی ملک کی ریسکیو ٹیم کو نیپال آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، وزارت خارجہ کے ذرائع کا دعویٰ
کاٹھمنڈو، 28 اگست (ہ س)۔
نیپال حکومت نے پہلے دن ہی یہ اشارہ دے دیا تھا کہ وہ کسی بھی ملک کی ریسکیو ٹیم کو نیپال آنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس حادثے کے بعد سب سے پہلے ہندوستان کی جانب سے این ڈی آر ایف کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ حکومت ہند کی جانب سے نیپال حکومت کو ضرورت پڑنے پر بچاو اور امدادی کاموں کے لیے این ڈی آر ایف کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ہندوستان کو اس طرح کی کوئی ریسکیو ٹیم بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیپال نے کہا کہ وہ امدادی سامان تو قبول کرے گا لیکن فی الحال کسی بھی ملک کی ریسکیو ٹیم کو آنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی نیپال کسی ملک کی ریسکیو ٹیم کو آنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے؟ ذرائع کے مطابق اس کے پیچھے چین کا مسلسل دباو ہے۔
دراصل نیپال کے جن علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے وہ علاقہ چین کی سرحد سے متصل ہے۔ تصویروں میں دکھائی دے رہا ہے کہ نیپال-چین سرحد کو جوڑنے والا کیرونگ ناکہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور وہاں اب بین الاقوامی سرحد جیسا کوئی نشان باقی نہیں بچا ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ ریسکیو فورس کے نام پر بیرونِ ممالک سے فوجی اور خفیہ اہلکار آ سکتے ہیں اور وہ چین کی سرحد پر جاسوسی یا نگرانی کے لیے کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔
نیپال کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ جب سے یہ حادثہ پیش آیا ہے تب سے لے کر چینی سفارت خانے کی جانب سے مسلسل اس بات کا دباو ڈالا جا رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی ریسکیو ٹیم یا ریسکیو ٹیم کے نام پر کسی ملک کی فوج کو رسوا کے سرحدی علاقوں میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیپال کے ایک وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ جہاں اس قدرتی آفت کے بعد ہندوستان سمیت دیگر ممالک مدد کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں، وہیں چین پہلے ہی لمحے سے صرف رسوا کی سرحد سے متصل آس پاس کے علاقے میں کسی دوسرے ملک کی ریسکیو ٹیم کو نہ داخل ہونے دینے کے لیے دباو بنا رہا ہے۔
چین کو ہندوستان سے بھی زیادہ تشویش امریکہ سمیت مغربی ممالک کی ریسکیو ٹیموں پر ہے۔ چینی سفارت خانے اور چینی انتظامیہ کو لگتا ہے کہ ریسکیو کے نام پر ان ممالک کی جانب سے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگ چین کے سرحدی علاقے میں آ سکتے ہیں۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے حکومت ہند سے سرحدی علاقے کی حساسیت کو سمجھنے کی درخواست کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن