
ایم پی ایس سی ادویات انسپکٹر پیپر لیک معاملہ : رکن اسمبلی ابھیمنیو پوار نے الزامات سے کیا انکار
لاتور، 28 اگست (ہ س)۔ ادویات انسپکٹر کے پیپر لیک معاملے کو لے کر بعض ناراض افراد کی جانب سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو رکن اسمبلی ابھیمنیو پوار نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم پی ایس سی کے پرچے لیک کرکے اپنا گھر چلانے کی نوبت ان پر نہیں آئی ہے اور ایسے کسی بھی غیر قانونی معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیل گادھو نہ ان کے پرسنل اسسٹنٹ ہیں اور نہ ہی رشتہ دار۔
ابھیمنیو پوار نے کہا کہ ایم پی ایس سی طلبہ کے مسائل پر کام کرتے ہوئے متعدد طلبہ اور طلبہ نمائندے ان کے رابطے میں آتے ہیں۔ اسی طرح سنیل گادھو بھی طلبہ کے مسائل لے کر ان سے رابطے میں آئے تھے۔ ان کے مطابق سنیل گادھو طلبہ کے مسائل کے سلسلے میں اپوزیشن کے دیگر عوامی نمائندوں اور سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ تاہم محض کسی سے رابطے کی بنیاد پر الزام لگانا درست نہیں ہے۔ اس لیے صرف رابطے کی بنیاد پر سنیل گادھو یا انہیں اس معاملے سے جوڑنا غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبہم الزامات لگانے کے بجائے اگر کوئی الزام عائد کیا جائے تو اس کے ساتھ ٹھوس ثبوت بھی پیش کیے جانے چاہئیں۔ اگر سنیل گادھو یا ان کی اہلیہ کا پیپر لیک معاملے سے کوئی تعلق ہے تو اس کے ثبوت عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ تفتیشی ایجنسیاں اس سلسلے میں تحقیقات کرسکیں۔ اگر تحقیقات میں کوئی شخص قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔
ابھیمنیو پوار نے کہا کہ اس معاملے کے حقائق تفتیشی ایجنسیوں کی تحقیقات کے ذریعے سامنے آرہے ہیں اور پیپر لیک کرنے کے الزام میں 6 ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ ایسے میں اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی الزامات لگانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی ایس سی طلبہ کے لیے کام کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ ان کے رابطے میں آئے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں طلبہ مختلف عہدوں پر منتخب بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ تصویر موجود ہونے کی بنیاد پر ہر امیدوار کی کامیابی پر شک کیا جائے گا۔ ان کے مطابق طلبہ کے لیے کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے ہر عمل کی ذمہ داری بھی کسی عوامی نمائندے پر عائد کی جائے۔ اسی طرح کسی طالب علم کی کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ تصویر ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ طالب علم امتحان میں کامیاب نہ ہو۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ اگر کسی پر الزام لگانا ہے تو وہ ٹھوس حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر لگایا جانا چاہیے، افواہوں یا محض جان پہچان کی بنیاد پر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایم پی ایس سی طلبہ کے مسائل کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور طلبہ کے درمیان ان کی مثبت شبیہ گزشتہ کئی برسوں سے اپوزیشن کے بعض لوگوں کے لیے باعث پریشانی بنتی رہی ہے۔ابھیمنیو پوار نے کہا کہ مخالفین چاہے جتنی بھی کوشش کریں کہ وہ طلبہ سے دور ہوجائیں، لیکن وہ طلبہ کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے