
بھاگلپور، 28 اگست (ہ س)۔ بھاگلپورمیں گنگا کے پانی کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح نے اب سنگین رخ اختیارکرنا شروع کر دیا ہے، جس سے پورے ضلع میں تشویش ہے۔گنگا کا پانی اب دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ شہری محلوں میں بھی داخل ہورہا ہے۔ نشیبی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں لوگوں کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔سیلاب کا سب سے زیادہ اثرناتھ نگربلاک میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہاں کے کئی گاؤں مکمل طور پر ڈوب گئے ہیں۔ سڑکوں پر کئی فٹ پانی بہنے سے گاؤں والوں کا مرکزی سڑکوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ لوگوں کو آمدورفت اور روزمرہ کی ضروریات کے حصول میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ سیلاب کا بڑھتا ہوا خطرہ اب تعلیمی نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی احاطہ کے کئی حصوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ انتظامی عمارتوں اور شعبہ جات کے اردگرد پانی پھیلنے سے طلباء اور یونیورسٹی کے عملے میں بے چینی اور خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اگر پانی کی سطح میں اضافہ جاری رہا تو یونیورسٹی کی کارروائیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوسکتی ہیں۔بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ گنگا کے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں اضافہ نہ روکا گیا تو سیلاب کا پانی شہر کے دیگر کئی نشیبی اور رہائشی علاقوں میں تباہی مچا سکتا ہے۔اس دوران ضلع انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ متاثرہ اور حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو چوکس رہنے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ فی الحال آنے والے دن بھاگلپور کے لوگوں کے لیے انتہائی چیلنجنگ دکھائی دے رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan