سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں نوجوان پولیس کی حراست میں
ایوت محل، 28 اگست (ہ س) ڈ سوشل میڈیا پر نشر کی گئی مبینہ قابل اعتراض پوسٹ کے باعث دگرس شہر میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس پوسٹ کے ذریعے ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ معاملے میں دگرس پولیس نے ایک نوجوان کو حراست
سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں نوجوان پولیس کی حراست میں


ایوت محل، 28 اگست (ہ س) ڈ سوشل میڈیا پر نشر کی گئی مبینہ قابل اعتراض پوسٹ کے باعث دگرس شہر میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس پوسٹ کے ذریعے ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ معاملے میں دگرس پولیس نے ایک نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس اسٹیشن میں درج شکایت کے مطابق، رات کے وقت دگرس شہر کے ایک چوک کے علاقے میں شہریوں کی توجہ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک اسٹوری کی جانب گئی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اس اسٹوری میں ایک نوجوان کی تصویر کے ساتھ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی مذہبی عقیدت اور جذبات کے حوالے سے قابل اعتراض محسوس ہونے والا متن موجود تھا۔ پوسٹ سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی۔شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے دگرس پولیس نے مقدمہ درج کیا اور متعلقہ نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران ایک مخصوص برادری کے شہریوں کی بڑی تعداد پولیس اسٹیشن کے احاطے میں جمع ہوگئی تھی۔معاملے کی تفتیش پولیس انسپکٹر ویدناتھ منڈے کی رہنمائی میں پولیس سب انسپکٹر مہیش دیشمکھ کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے متعلقہ انسٹاگرام اکاؤنٹ، پوسٹ کی صداقت، اس کے ماخذ، پوسٹ کے پھیلاؤ کی حد اور اسے شیئر کرنے کے مبینہ مقصد سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔دریں اثنا، پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تفتیش مکمل ہونے سے قبل اس معاملے کے بارے میں افواہیں یا گمراہ کن معلومات نہ پھیلائیں۔ سماجی ہم آہنگی اور امن برقرار رکھنے کے لیے شہری صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پولیس انسپکٹر ویدناتھ منڈے نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شہری کو کوئی قابل اعتراض پوسٹ نظر آئے تو اس پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اس کی اطلاع براہ راست پولیس کو دی جائے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande