
بیکانیر، 28 اگست (ہ س)۔
بھارت-پاکستان سرحدی علاقے سے وابستہ سکیورٹی انتظامات کے درمیان ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور سی آئی ڈی بیکانیر زون کی مشترکہ ٹیم نے بیکانیر میں ایک بنگلہ دیشی خاتون کو حراست میں لیا ہے۔ تقریباً آٹھ ماہ سے بھارت میں رہنے والی اس خاتون کے پاس بنگلہ دیش سے متعلق دستاویزات بھی ملی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ معلوم کرنے میں مصروف ہیں کہ خاتون بھارت میں کس راستے سے داخل ہوئی تھی اور اس کے پاس پاسپورٹ اور ویزا جیسے قانونی سفری دستاویزات تھے یا نہیں۔ بنگلہ دیش میں اس کی جانب سے بتائے گئے پتے پر بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور سی آئی ڈی بیکانیر زون کی مشترکہ ٹیم نے خاتون کو جمعرات کو اشوک نگر علاقے میں تلسی دھارنیا اسکول کے قریب واقع ایک ڈیرے سے حراست میں لیا۔ اس نے اپنا نام نیلا (27)، زوجہ سیف اللہ اور بنگلہ دیش کے جورشر، پوسٹ آفس سال ڈانگا کی رہائشی بتایا ہے۔ خاتون کو جے نارائن ویاس کالونی تھانے کی پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں خاتون کے مبینہ طور پر جسم فروشی سے وابستہ ہونے کا شبہ بھی سامنے آیا ہے۔ وہ کسی گروہ یا نیٹ ورک کے رابطے میں تھی یا نہیں، اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ایجنسیاں اس کے موبائل فون، کال ڈیٹیل اور ممکنہ بینک کھاتوں سے متعلق معلومات کی جانچ کر رہی ہیں۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اس کے رابطے میں رہنے والے افراد، مالی تعاون اور بیکانیر میں اسے پناہ دینے والوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
جے نارائن ویاس کالونی تھانے کے افسر دیویندر سنگھ نے بتایا کہ معاملہ ایک غیر ملکی شہری کے غیر قانونی طور پر قیام اور سکیورٹی ایجنسیوں سے متعلق ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے سینئر افسران بھی معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بیکانیر کے سرحدی علاقوں بجو، کھاجو والا اور پوگل میں سکیورٹی ایجنسیوں کی نگرانی جاری ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی مشتبہ سرگرمیوں، سوشل میڈیا نیٹ ورک اور مقامی رابطوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ